عیدالاضحیٰ اور مسلمانوں کے فرائض

اگرخوشحال مسلمان اپنے غریب مسلمان بھائیوں کاخیال رکھیں توکوئی مسلمان اس مبارک دن قربانی کے گوشت سے محروم نہیں رہ سکتا۔


Editorial August 22, 2018
اگرخوشحال مسلمان اپنے غریب مسلمان بھائیوں کاخیال رکھیں توکوئی مسلمان اس مبارک دن قربانی کے گوشت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور برصغیر کے مسلمان آج پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ عیدالاضحیٰ منا رہے ہیں، یہ دن دنیا بھر کے مسلمانوں کو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی یاد دلاتا ہے اور اسی نسبت سے مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ یا عید قربان مسلمانوں کو درس دیتی ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں' مشرق وسطیٰ اور دیگر عرب ملکوں اور یورپ میں منگل کو عیدالاضحیٰ منائی گئی' اس سے قبل مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے آئے بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کر لیا۔

مسجد نبویؐ کے امام شیخ حسین بن عبدالعزیز ال الشیخ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے اسلام کی اصل تصویر احسن اعمال پر ہے، سیاست اور معیشت کو دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، مسلمانوں کو حکمرانوں کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا گیا، حکمران ایسا ہونا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کرے اور ہر طرح کی برائی روکے، حکمرانی ایسی ہو جس میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کی پیروی کی جائے، شریعت کے مطابق زندگی بسر کی جائے، اللہ کا حکم ہے فیصلہ سازی عدل کی بنیاد پر کی جائے۔

مسلمان کا مال، خون اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اسلام ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا، مسلمان کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے، نبی پاکﷺ کی پیش کردہ اخلاقیات کسی بھی بے گناہ کو نقصان پہنچانے سے روکتی ہیں، معاشرے میں امن کے لیے ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے، اخلاق حسنہ معاشرے کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، پوری دنیا کو قرآن پاک کے مطالعے کی دعوت دیتے ہیں، قرآن سیدھے راستے کی طرف لے کر جاتا ہے، محمد مصطفی ﷺ پرایمان کامل اوراحکامات کو برحق ماننا ایمان کا اہم جزو ہے۔

فجرمیں قرآن کی تلاوت روز آخرت میں گواہی دے گی، اسلام کی اصل تصویراحسن اعمال پرہے، اللہ نے وحدانیت پر یقین رکھنے والوں سے کامیابی کا وعدہ کیا ہے، ہر طرح کی کامیابی اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہؐ کی رسالت میں ہے، اللہ تقویٰ اختیارکرنے والوں کو پسند کرتا ہے، لوگوں تقویٰ اختیارکرو تاکہ تم فلاح پاؤ، اسلام اوردین کی عظمت کی بنیاد توحید ہے، اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹہراؤ، شرک کرنے والے کا انجام برا ہوگا، اللہ کا حکم ہے تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو رسول اللہؐ کی اطاعت کرو۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، والدین اور پڑوسیوں کے ساتھ احسن سلوک کیا کرو، دھوکا نہ دو اورناپ تول پورا کرو، جوا اور سٹے بازی حرام ہے، اللہ نے جاسوسی اور غیبت سے منع فرمایا ہے۔

آج عالم اسلام جن حالات سے دوچار ہے' اس کی بنیادی وجہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں اور اس کے ساتھ وہ طبقہ جو دین کی تعبیر و تشریح کر رہا ہے' اس کا کردار بھی مشکوک ہے کیونکہ اس نے بھی مسلم حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی تائید کی ہے جب کہ مسلمانوں کا صاحب حیثیت اور خوشحال طبقہ بھی معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت غربت اور بدحالی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا شکار ہے۔ جناب امام شیخ حسین بن عبدالعزیز الشیخ نے جو باتیں کہیں ہیں۔

وہ اپنے اندر معنی کا جہان لیے ہوئے ہیں' انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ مسلمان کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے' اسلام ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔ حکومتی پالیسیوں سے الگ ہو کر اگر سماجی حوالے سے بھی دیکھا جائے تو ہمیں صورت حال کچھ زیادہ بہتر نظر نہیں آتی۔ دھوکا دہی' فراڈ' جھوٹ اور بہتان تراشی عام ہے۔

یہ برائیاں حکمران طبقے سے لے کر درمیانے طبقے تک ہی محدود نہیں بلکہ نچلا طبقہ بھی انھی برائیوں کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ نے انتہا پسندی کا جو راستہ اختیار کیا اس کی وجہ سے عالم اسلام شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انتہا پسندوں کے زیراثر تنظیموں نے دہشتگردی کی راہ اختیار کی' ادھر مسلمانوں کی مخالف قوتوں نے اسے دین اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ آج پورا مشرق وسطیٰ' شمالی افریقہ کے مسلم ممالک اور افغانستان بے چینی اور انتشار کا شکار ہیں۔ گرم ہوائیں پاکستان کا رخ بھی کر رہی ہیں۔

اگر اسلامی ملکوں کے حکمران اور دین کی تعبیر و تشریح کا ذمے دار طبقہ اپنا حقیقی رول ادا کرتا تو اسلامی معاشروں میں انتہا پسندی کا زہر نہیں پھیل سکتا تھا اور نہ ہی مسلم معاشروں میں اخلاقی انحطاط اپنی آخری حدوں کو چھوتا۔ مسلم ممالک کی اشرافیہ کا دہرا معیار رہا ہے' اس طبقے نے اپنے لیے امریکا' یورپ اور کینیڈا وغیرہ میں جائے پناہ تلاش کر لی اور اپنے اثاثے اور خاندان ان خوشحال معاشروں میں شفٹ کر دیے اور خود یہ طبقہ مسلم ملکوں پر حکمرانی بھی ہے۔

بطور حکمران یہ طبقہ مسلم ملکوں میں مغرب مخالف جذبات کو بھڑکاتا ہے حالانکہ ان کے اثاثے اور خاندان انھی ملکوں میں مقیم ہوتے ہیں۔ اس دہرے معیار نے مسلم ممالک میں بدترین سیاسی اور معاشی انتشار پیدا کر رکھا ہے۔ پاکستان بھی اسی دوعملی کا شکار ہے۔ پاکستان کا حاکم طبقہ بھی اپنے ملک میں امریکا اور یورپ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والی تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے جب کہ حالت یہ ہے کہ ان کے خاندان اور اثاثے امریکا اور یورپ کے خوشحال ملکوں میں موجود ہیں۔ اس دوعملی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا۔

بہرحال خطبہ حج میں جناب شیخ حسین بن عبدالعزیز الشیخ نے جو کچھ کہا ہے' اسے مسلم حکمرانوں اور مسلمانوں کے بااثر طبقوں کو راہ عمل بنانا چاہیے۔ عیدالاضحیٰ کا مبارک دن بھی مسلمانوں کو یہی سبق دیتا ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔ قربانی دراصل ایثار کا نام ہے' اس دن کی نسبت سے مسلمان دنیا کی دیگر اقوام کو بھی عمل اور ایثار و قربانی کا پیغام دے سکتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقعے پر صاحب حیثیت مسلمانوں کو غریب مسلمانوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے' جانوروں کی قربانی کا مقصد محض نمود و نمائش نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد ایک جانب اللہ کو راضی کرنا اور دوسری جانب غربا اور مساکین کا خیال رکھنا بھی ہے۔

پاکستان میں لاکھوں جانوروں کو قربان کیا جائے گا' اگر خوشحال مسلمان اپنے غریب مسلمان بھائیوں کا خیال رکھیں تو کوئی مسلمان اس مبارک دن قربانی کے گوشت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں' یہ مہذب قوموں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اور اپنے ارد گرد کا ماحول صاف رکھتے ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ قربانی کے روز اور اس سے پہلے قربانی کے جانوروں کو گلیوں اور شاہراہوں میں باندھا جاتا ہے' جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں بھی رکاوٹ پڑتی ہے اور صفائی ستھرائی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کو قربانی کے روز جہاں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہے وہاں اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ ان کی وجہ سے کسی کو پریشانی نہیں ہو رہی۔