وزیراعظم پاکستان کی بھارت کو مذاکرات کی دعوت

امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چلے بغیر لوگوں کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


Editorial August 25, 2018
امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چلے بغیر لوگوں کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے جنوبی ایشیا میں مستقل قیام امن اور روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے بھارت کو کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے۔

منگل کو دہشت گردی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی یاد میں منائے جانے والے بین الاقوامی دن کے موقع پر جاری اپنے بیان اور ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ غربت مٹانے اور برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ ہے کہ بھارت کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرے اور باہمی تجارت شروع کی جائے۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستان آنے پر بھارتیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری تقریب حلف برداری کے لیے پاکستان آنے پر میں سدھو کا شکر گزار ہوں' وہ امن کا سفیر بن کر آیا جسے پاکستانی عوام نے بے پناہ محبت اور پیار دیا' بھارت میں جو لوگ اس کے خلاف تلواریں سونتے ہوئے ہیں وہ حقیقت میں برصغیر کے امن پر حملہ آور ہیں اور امن کے بغیر لوگ ترقی نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، بین الاقوامی برادری دہشت گردی کے متاثرین کی مدد کے لیے مل کر اقدامات کرے، یہ دن دراصل اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کرنے اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا بھی دن ہے جنہوں نے پاکستان اور عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بے بہا قربانیاں دی ہیں۔

پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے جوانوں سمیت ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے، اس موقع پر بالخصوص آرمی پبلک اسکول پشاور پر بہیمانہ دہشتگرد حملے کے130سے زائد شہداء کو یاد کر رہے ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں، یہ وہ شہداء ہیں جو اوائل عمری میں ہم سے جدا ہوگئے اور ان کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

نئی برسراقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی ایشیا کے خطے کو جنگ کی ہولناک تباہیوں سے بچانے اور عوام کے روشن مستقبل کے لیے بھارت کو کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دے کر صائب قدم اٹھایا اور بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرایا ہے کہ نفرت کے جذبات ابھارنے اور جنگی جنون کو ہوا دینے سے یہاں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں زہر گھولنے اور انھیں تباہی کی جانب دھکیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چلے بغیر لوگوں کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا' اگر جنگ سے مسائل حل ہونے ہوتے تو کبھی کا ایسا ہو چکا ہوتا' اور آج ہمیں جن پیچیدہ اور گمبھیر حالات کا سامنا ہے وہ نہ ہوتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کو امن کے راستے پر چلنے کے لیے مذاکرات کی جو دعوت دی ہے وہ اس کا کیا جواب دیتی ہے۔

بھارت میں دانشور اور فہمیدہ حلقے ہمیشہ اپنی حکومت پر زور دیتے چلے آئے ہیں کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کا ڈول ڈالے اور قیام امن کے لیے اپنا حقیقی کردار ادا کرے لیکن بھارت میں موجود ہندو انتہا پسند لابی اس قدر مضبوط ہے کہ جب بھی بھارتی حکومت نے پاکستان سے مذاکرات شروع کیے اس لابی نے اسے ناکام بنانے کے لیے اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس پر اس قدر دباؤ بڑھایا کہ وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔

اس کی مثال وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آنے والے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف انتہا پسند بھارتیوں کے رویے سے واضح ہو جاتی ہے جسے صرف اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ امن کا سفیر بن کر پاکستان کیوں آیا۔

جب تک بھارتی حکومت شدت پسند ہندوؤں کے دباؤ سے خود کو آزاد نہیں کراتی اور خطے میں قیام امن کے لیے ڈٹ نہیں جاتی تب تک پاک بھارت مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید برلانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

اگر آج مودی حکومت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے تو ممکن ہے کہ اس کے بعد نئی آنے والی بھارتی حکومت کو پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت میں چھپے امن کے پیغام کی حقیقت کا ادراک ہو جائے اور وہ نفرت کی سیاست کو ترک کر کے مذاکرات کو ترجیح دے۔ بھارت کو کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کے لیے بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا کیونکہ اسی میں برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ مضمر ہے۔