پاک چین تعلقات کے مزید استحکام کے عزم کا خیرمقدم

12 معاہدے، ایم او یوز پر دستخط ترقی کی منزل، گوادر انتظام کی حوالگی واضح اعتماد ہے، ہارون اگر


Business Reporter May 24, 2013
12 معاہدے، ایم او یوز پر دستخط ترقی کی منزل، گوادر انتظام کی حوالگی واضح اعتماد ہے، ہارون اگر فوٹو: فائل

ISLAMABAD: کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ اور صدر مملکت آصف علی زرداری کو بین الاقوامی صورتحال سے قطع نظردونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان 12 مختلف معاہدوں اور ایم او یوزپر دستخط کے عمل کو ترقی کی ایک منزل قراردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کے ذریعے معیشت ، تجارتی تعلقات اورمعاشی کوریڈور پرتوجہ مرکوز رکھنا خوش آئند ہے، ہارون اگر نے کہاکہ گوادربندرگاہ کی انتظامیہ چین کے حوالے کرنا چین پر واضح اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، اس اقدام سے علاقائی اور اقتصادی کوریڈورکا قیام ممکن ہو سکے گا، گوادر بندرگاہ سے پاکستان بھر میں سڑکوں اور ریلوے کا جال بچھانے کے علاوہ گودار کوبراستہ شاہراہ قراقرم سینٹرل ایشیا سے منسلک کرنے کے بھی اقدامات میں چین کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کو دگنا کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے آزاد تجارتی معاہدے پرجاری مذاکرات کو مزیدآگے بڑھانے کے عمل کی بھی تعریف کی۔



انہوں نے توقع ظاہرکی کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم آئندہ چند سالوں میں 12.4 ارب ڈالر سے 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔پاکستان ایگری کلچر ڈیمونسٹریشن زون کے قیام ، نوجوان تاجروں کے فورم کے علاوہ ہر سال بیجنگ اور اسلام آباد میں پاک چین تجارت وسرمایہ کاری فورم کے انعقاد کا فیصلہ بھی تاریخ ساز ثابت ہو گا، موجودہ حالات میںتوانائی کی پیداوار اور رابطے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی حجم جو 2011 میں 10.6 ارب ڈالر تھا اب 17.6 فیصد اضافے سے 2012 میں 12.4 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچنے کوبھی خوش آئند قرار دیا جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

درآمدات بھی 9.9 فیصد کی شرح سے بڑھ کر 9.2 ارب ڈالر ہو گئی تھی جبکہ برآمدات کا حجم 48.2 فیصد اضافے سے 3.14 ارب ڈالر ہو گئی ہے، ہارون اگر نے کہا کہ پاکستان اور چین کو مشترکہ مفاد کے لیے مشترکہ معاشی تعاون پر بھی توجہ دینا چاہیے۔چینی کمپنیاں پاکستان میں انفرااسٹرکچر، تعمیرات، مینوفیکچرنگ، توانائی، معدنیات، مواصلات اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ یہ تعاون آنیوالے وقتوں میں مزید فروغ پائے گا۔ انہوںنے بیجنگ میں پاکستانی سفارتکار مسعود خان اور اسلام آباد میں چین کے سفارتکار لی جیانگ کی دوطرفہ تجارت کے فروغ اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے کوششوں کی بھی تعریف کی۔