فیوچر ٹریڈنگ کاٹن جنرز کا شریعت کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

2005 میں حکم امتناعی کے باعث یہ عمل رک گیا تھا، سٹہ باز اب پھر سے سرگرم ہوگئے


Business Reporter May 24, 2013
تمام زونز میں جنرز کے ہنگامی اجلاس ہونگے، مزید اقدامات کا جائزہ لیا جائیگا، احسان الحق فوٹو: فائل

مرکینٹائل ایکس چینج میں روئی فیوچرٹریڈنگ کی معطلی کے لیے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے وفاقی شرعی عدالت میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس اپیل کا مقصد روئی کی فیوچر ٹریڈنگ غیر شرعی ہونے کے باعث پاکستان میں اس پرعمل درآمد کو روکنا ہے تاکہ کسانوں،کاٹن جنرز اور ٹیکسٹائل ملز مالکان معاشی بحران سے بچایا جا سکے، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے )کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ قبل ازیں 2005 میں بھی کراچی کاٹن ایسوسی یشن نے روئی کی فیوچر ٹریڈنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پی سی جی اے کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت میں اپیل کے باعث عدالت نے اس پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں روئی کی فیوچر ٹریڈنگ معطل ہو گئی تھی۔



واضح رہے کہ روئی کی فیوچر ٹریڈنگ میں عملی کی بجائی زبانی سودے طے کیے جاتے ہیں اور خرید و فروخت کرتے وقت روئی کی عملی طور پر ڈیلیوری کی بجائے تیزی یا مندی کی بنیاد پر نفع نقصان کا تعین کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر سٹہ باز مصنوعی تیزی یا مندی کے ذریعے خود تو لاکھوں کما لیتے ہیں لیکن اس سے اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتوں میں ٹھراؤ نہ آنے سے اس کا براہ راست نقصان کاشت کاروں ،کاٹن جنرز اور ٹیکسٹائل ملز مالکان کو اٹھانا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روئی کی فیوچر ٹریڈنگ میں اسپاٹ فکسنگ کے بھی بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں جس میں خریدنے اور فروخت کرنے والے سٹہ باز باہمی رضا مندی سے روئی کے سودے طے کر لیتے ہیں تاکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ سے باہر نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی جی اے عنقریب تمام کاٹن زونز میں کاٹن جنرز کے ہنگامی اجلاس بھی بلا رہی ہے تاکہ پاکستان میں روئی کی فیوچر ٹریڈنگ معطل کرانے کے لیے مزید اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔