ایشین گیمز پاکستان فٹبال ٹیم کی پہلی انٹرنیشنل پرواز

بہتری کی طرف سفر جاری رکھنے کے لئے مزید محنت درکار ہوگی


Abbas Raza August 26, 2018
بہتری کی طرف سفر جاری رکھنے کے لئے مزید محنت درکار ہوگی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کھیلوں میں سیاسی مداخلت پاکستانیوں کیلئے کوئی نئی بات نہیں، جس کے ہاتھ میں بھی عنان اقتدار آئے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دیگر شعبوں کے ساتھ کھیلوں کی تنظیموں پر بھی صرف اس کی پسندیدہ شخصیات موجود ہوں، اسی روش نے 3 سال تک پاکستان فٹبال کو بری طرح متاثر کیا۔

سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہی فٹبال کے امور چلانے والی پی ایف ایف کے معاملات ایک عرصہ تک تنازعات کا شکار رہے، پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے اپریل 2015 میں الیکشن منعقد کرانے کے بعد صدر کے انتخاب سے قبل ہی ایک ایسا میچ شروع ہوا جس کے نتیجے میں فٹبالرز کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں،دونوں فریق اپنی نگرانی میں الیکشن کرانا چاہتے تھے تاہم لاہور ہائیکورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔

فیصل صالح حیات کے حامی گروپ نے اے ایف سی حکام کی نگرانی میں الیکشن منعقد کرائے اور اسی دوران لاہور ہائیکورٹ نے پی ایف ایف امور چلانے کیلیے ایک ریٹائرڈ جسٹس کا بطور ایڈمنسٹریٹر تقرر کردیا۔

اس پر فیفا ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالتی منتظم کی جانب سے 31جولائی 2017 تک پی ایف ایف کے امور اور اکاؤنٹس واپس نہیں دیئے گئے تو اس کی رکنیت معطل کردی جائے گی،بالآخر گزشتہ سال اکتوبر میں یہ انتہائی قدم بھی اٹھاتے ہوئے پاکستان کو کک مار کر باہر کردیا گیا،قومی ٹیموں کی انٹرنیشنل سرگرمیاں روک دی گئیں، عہدیدار بھی فیفا یا ایشین فٹبال کنفیڈریشن کی جانب سے منعقدہ کسی ترقیاتی پروگرام یا ٹریننگ کورس میں شرکت کے اہل نہیںرہے، دیگر ایسوسی ایشنز کو بھی روابط منقطع کرنے کی پابند کردیا گیا، منتخب فیڈریشن عہدیداروں کو اختیارات، دفاتر اور اکائونٹس واپس کئے جانے تک معطلی برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ فیفا ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ایف ایف کے معاملات آزادانہ طور پر چلانے کے بجائے کسی دوسرے غیر متعلقہ فریق کے سپرد کردیئے گئے ہیں، اکاؤنٹس دوبارہ فیڈریشن کے سپرد ہونے کی صورت میں ہی معطلی کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے عائد پابندی اٹھالی جائے گی۔

بالآخر ایک طویل عرصے تک اصولی موقف پر قائم رہنے والی پی ایف ایف کی منتخب باڈی عدالت میں سرخرو ہوئی،فیفا نے پاکستان کی رکنیت بحال کی تو فٹبال حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. سید فیصل صالح حیات نے دوبارہ کمان سنبھالی تو لاہور میں دفاتر کی حالت ابتر تھی، ویرانے کا ماحول پیش کرنے والی عمارتیں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں سے جانے والوں نے انتقامی کارروائی کی ہے، بہرحال کھیل کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئیں،سب سے اہم پیش رفت برازیلی کوچ جوز انتونیو ناگورا کی خدمات کا حاصل ہونا تھا، برازیل سے ہی تعلق رکھنے والے ٹرینر جوز رابرٹو پورٹیلا نے بھی جوائن کیا، ایشین گیمز ان کی صلاحیتوں کا پہلا امتحان تھا۔

گو ایشین گیمز میں پاکستان ٹیم کی مجموعی کارکردگی کسی طور بھی قابل فخر نہیں، تاہم طویل عرصہ تک کوئی انٹرنیشنل میچ ہی نہ کھیل پانے والے کھلاڑیوں کا ایک کیمپ میں شرکت کے بعد میدان میں اترنے کے بعد ایک اچھا تاثر چھوڑ دینا بھی نیک شگون ہے، کوئی بھی سلیکٹر تمام کھلاڑی ایسے منتخب نہیں کرسکتا کہ جو آگے چل کر سٹارز بنیں لیکن بہتر فیصلوں اور مضبوط ٹیموں کی تشکیل کے لیے کھیل کی سرگرمیوں کا جاری رہنا ضروری ہے۔

اچھی بات ہے کہ پی ایف ایف طویل تعطل کے باوجود فٹبال کو ٹریک پر واپس لے آئی ہے، ملک میں سرگرمیاں بھرپور انداز میں شروع ہو چکی ہیں، پاکستان میں پہلی کلاسک فٹبال لیگ رواں سال کی آخری سہ ماہی میں کروانے کا اعلان بھی کردیا گیا ہے، مقابلے کراچی اور لاہور میں شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں گے، پی ایف ایف اور ایک سپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے اشتراک سے ہونے والے ٹورنامنٹ کی فرنچائز ٹیموں میں پاکستان کے بہترین ٹیلنٹ کے ساتھ انٹرنیشنل کھلاڑی بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کلاسک لیگ کیلئے قومی فٹبالرز کی ابتدائی فہرست مرتب کی جاچکی ہے جبکہ پی ایف ایف کے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کیساتھ رابطے جاری ہیں، پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ کامیاب بنانے کیلئے بھرپور تیاری کے ساتھ متعدد تعارفی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ ملک میں ایک بار پھر حکومت تبدیل ہوچکی، کھیلوں کی تنظیموں میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا، طویل تعطل کے بعد بحال ہونے والی پاکستان فٹبال فیڈریشن کی طرف بھی نگاہیں اٹھ رہی ہونگی، تاہم اس باب کا کھلنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔