ایران میں شدید زلزلہ

زلزلہ ایک ایسی بلائے ناگہانی ہے جس کی قبل ازوقت پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔


Editorial August 28, 2018
زلزلہ ایک ایسی بلائے ناگہانی ہے جس کی قبل ازوقت پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ فوٹو: فائل

ایران کے صوبے کرمانشاہ میں اتوار کو آنے والے زلزلہ سے 2 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ریکٹر اسکیل پر زلزلہ کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے سے گاڑیوں اور 500 سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا، 70 گاؤں بجلی سے محروم ہوگئے۔

زلزلے کے جھٹکے عراق کے دارالحکومت بغداد اور کردستان تک محسوس کیے گئے، نزدیکی علاقوں میں 4 شدت کے متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں کرمانشاہ میں 7 اعشاریہ 2شدت کے زلزلہ کے باعث 530 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

زلزلہ ایک ایسی بلائے ناگہانی ہے جس کی قبل ازوقت پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، اس لیے اس کی تباہ کاریوں سے بچنے کا واحد طریقہ موثر حفاظتی انتظامات ہیں۔ ایسے انتظامات دنیا بھر میں کیے جاتے ہیں، جن ملکوں میں زیادہ زلزلے آتے ہیں انھوں نے ان سے نمٹنے کے طریقے بھی تلاش کر رکھے ہیں اور ان پر سختی سے عمل بھی ہوتا ہے۔

ان میں پہلا اور سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ لوگ جن گھروں میں رہتے ہیں وہ زلزلے سے بچاؤ کے تقاضوں کے مطابق تعمیر کیے گئے ہوں، ان کا ڈیزائن درست اور زلزلہ پروف ہو، یہی احتیاط دوسری عمارات کے بارے میں اختیار کرنا بھی لازمی ہے۔ پاکستان کو بھی اکثر زلزلہ کا سامنا رہتا ہے، یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں رہائشی اور دوسرے مقاصد کے لیے تعمیر ہونے والی عمارات میں زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کا افسوسناک حد تک فقدان ہے۔

ایران میں اکثر زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں لیکن وہاں کی حکومت نے زلزلوں سے حفاظت کے بین الاقوامی طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں اور وہاں ماہرین کی مشاورت سے تعمیراتی نظام کو بہتر بنایا گیا ہے، ایسا بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا گیا ہے جس میں دوسری باتوں کے علاوہ زلزلے سے بچاؤ کی موثر تدابیر بھی موجود ہیں لیکن پسماندہ اور دیہی علاقوں میں ان احتیاطی تدابیر کا فقدان ہے۔

صائب ہوگا کہ زلزلہ سے بچاؤ کا بلڈنگ کوڈ ہر علاقے پر یکساں لاگو کیا جائے، اس کے علاوہ زلزلے کی صورت میں فوری اور موثر امدادی کارروائیوں کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار رکھی جائے۔ نیز زلزلہ کے پیش نظر شہریوں کو خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ زلزلے جیسی آفات سے حکومت اور شہری مل کر ہی نمٹ سکتے ہیں۔