دہشت گردی کیخلاف جنگ سب کی ذمے داری ہے

بدامنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مقامی آبادی کی شرکت اور تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔


Editorial August 31, 2018
بدامنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مقامی آبادی کی شرکت اور تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ فوٹو : فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وانا میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عمائدین کے مشترکہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بدامنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہو گا اس کے لیے سب کو مل کر انتشار واپس آنے سے روکنا ہے' کوئی بھی لڑائی محض آپریشنز سے ختم نہیں ہوتی' آپریشنز کے بعد بحالی اور ترقی کی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے' دہشت گردی اور ترقیاتی کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے' امن بڑے پیمانے پر بحال ہو چکا ہے جب کہ بحالی اور ترقیاتی کوششوں پر مبنی آپریشنزجاری رہتے ہیں، سماجی ومعاشی ترقی کی رفتار بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ان علاقوں کے لوگ دشمن قوتوں سے امن واستحکام کے ماحول کا تحفظ کریں جو کامیابیوں کو خراب کرنے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف نے بدھ کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انھیں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے' آپریشنز، ترقیاتی منصوبوں اور امن وامان کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو شکست دے کر امن و امان بحال کیا' پاک فوج کی ان کامیابیوں اور صلاحیتوں کا اعتراف پوری دنیا نے کیا مگر کچھ عرصے بعد چند شرپسند عناصر نے غیرملکی قوتوں کی آشیرباد سے اس علاقے کے امن و امان کے لیے ایک بار پھر سے مسائل پیدا کرنے شروع کر دیئے جن کا آرمی چیف نے اپنے خطاب میں ذکر کرتے ہوئے مقامی آبادی کو متنبہ اور بڑے فریقین ہونے کے ناطے متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے حاصل شدہ امن و استحکام کے ماحول کو ایسی دشمن قوتوں سے محفوظ رکھیں جو اس کو دوبارہ چھیننے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ملک دشمن عناصر علاقائی مسائل' بیروز گاری' بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور دیگر امور کے ایجنڈے کو بطور ہتھیار بنا کر مقامی آبادی کو حکومت کے خلاف اکساتے اور بغاوت پر ابھارتے چلے آئے ہیں' غربت جہالت اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہمیشہ شرپسند عناصر کے پسندیدہ ہتھیار رہے ہیں' پاک فوج کی قیادت کو بھی ان حقائق کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں' سماجی و اقتصادی ترقی' بجلی' پانی' تعلیمی اداروں اور مواصلات کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ پاک فوج کی ان خدمات کو سراہتے ہوئے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے عمائدین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے شہری گزشتہ کئی عشروں سے جنگی ماحول اور اس سے جنم لینے والی ہولناکیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی زندگیوں میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان کے حل کے لیے ناگزیر ہے کہ انقلابی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

پاک فوج علاقے میں آپریشنز کے بعد بحالی اور ترقی کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے،اس کے ثمرات چند دن میں نہیں مل سکتے اسے بارآور ہونے میں ایک عرصہ لگے گا اور آہستہ آہستہ حالات معمول پر آنے لگیں گے اور وہ دن دور نہیں جب ترقی اور خوشحالی کے لحاظ سے یہ علاقے بھی ملک کے دیگر خوشحال علاقوں کے برابر شمار ہونے لگیں گے لیکن چند ملک دشمن قوتیں شہریوں کے بنیادی حقوق اور مسائل کی آڑ میں یہاں ایک بار پھر امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

جنھیں سرحد پار سے وطن دشمن عناصر کی آشیرباد حاصل ہے۔ انھی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے فاٹا کا خیبر پی کے میں انضمام کیا گیا تاکہ یہاں تمام آئینی اور قانونی ریاستی اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ ترقیاتی عمل کی رفتار بھی تیز کی جا سکے اور شہریوں کے جو مطالبات عشروں سے چلے آ رہے ہیں ،انھیں حقیقت کی صورت ڈھالا جا سکے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے عمائدین پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اہم اور بڑے فریقین ہونے کے ناطے وہ بھی شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور پرامن ماحول کو خراب کرنے والی قوتوں کو ناکام بنانے کے لیے حکومت سے بھرپور تعاون کریں' بدامنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مقامی آبادی کی شرکت اور تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ سرحد پار سے شرپسندوں کو روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔

جب تک سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد روکی اور وطن دشمن قوتوں کی امدادی سپلائی لائن نہ کاٹی جائے تب تک داخلی سطح پر کیے جانے والے آپریشنز وقتی فوائد تو سمیٹ سکتے ہیں مگر اپنے مستقل مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن دشمن اور شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کے لیے علما کرام،دانشور حلقوں اور گراس روٹ لیول پر عوام کو متحرک کیا جائے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم اور ملک کی سالمیت کی جنگ ہے۔