ترکی کا روسی دفاعی نظام خریدنے کا اعلان

روس کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام خریدنے کا اعلان ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کیا ہے۔


Editorial September 02, 2018
روس کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام خریدنے کا اعلان ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کیا ہے۔ فوٹو: فائل

ترکی نے ایڈوانسڈ روسی دفاعی نظام خریدنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے نیٹو تشویش میں مبتلا ہو گئی ہے کیونکہ شمالی بحر اوقیانوس کے یورپی ممالک اور امریکا نے کالعدم سوویت یونین کے مقابلے کے لیے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے نام سے جو دفاعی تنظیم قائم کی تھی سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اس فوجی تنظیم کا بظاہر کوئی جواز نہیں رہا تھا مگر بعد میں ایسے بیانات آنے لگے کہ اب سوویت روس سے بھی کہیں زیادہ بڑا خطرہ دہشتگردی کی صورت میں بدستور موجود ہے چنانچہ نیٹو کو تحلیل نہیں کیا جائے گا۔

ادھر عالم اسلام اور مسلم امہ کی حقیقی موجودہ حیثیت پر ِکاہ جیسی رہ گئی ہے اور جس ایرے غیرے کا جی چاہتا ہے کوئی توہین آمیز فقرہ کس کے گزر جاتا ہے لیکن حقیقت میں مسلمانوں کی حکومت کی ایک قدیمی ہیبت آج بھی ان کے دل میں موجود ہے۔

ترکی غالباً واحد مسلم ملک ہے جسے امریکا نے نیٹو کا باقاعدہ ممبر بنایا ہوا ہے مگر اس کا مسلم ملک ہونا اس کے لیے مغرب کی طرف سے منفی تاثرات ابھارنے کا باعث ہے لیکن ترکی کے ایڈوانسٹڈ فضائی دفاعی نظام خریدنے کے اعلان نے نیٹو اور اس کے کارپردازوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ دفاعی فضائی نظام یقینا بے حد مہنگا ہو گا اور اس میں جدید ترین طیاروں کے ساتھ ساتھ گولہ بارود کی بھاری مقدار بھی شامل ہو گی اور پھر اس نظام کی مینٹی ننس پر بھی اخراجات لامحدود ہوں گے۔ یہ سارا مال امریکا کے ہاتھ سے نکل کر روس کی طرف جاتا نظر آنے پر نیٹو کا ڈپریشن میں جانا سمجھ میں آ سکتا ہے۔

روس کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام خریدنے کا اعلان ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کیا ہے جس سے انقرہ کے نیٹو پارٹنرز بے حد پریشان ہو گئے ہیں۔ ترکی نے بتایا ہے کہ انھیں اے ایس 400 ایس درکار رہے جس کی ڈیل مکمل کر دی گئی ہے۔ صدر اردگان نے کہا ہے ان شاء اللہ ہم اسے بہت جلد خرید لیں گے۔ گزشتہ برس روسی صدر ولادی میرپوتن نے کہا تھا کہ فضائی دفاعی نظام جو 2019ء اور 2020ء تک فراہم کرنے کا پروگرام ہے، ترکی کے طلب کرنے پر فوری طور پر فراہم کر دیا جائے گا۔

نیٹو کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ روس کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام سے نیٹو کے طیاروں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ روس کے ساتھ دفاعی سودا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ترکی اور امریکا میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے حالانکہ ترکی امریکا کا نیٹو اتحادی بھی ہے۔ کشیدگی کی بنیاد انقرہ میں امریکی پادری کی گرفتاری ہے جس پر دہشت گردی کے الزماات عائد ہیں۔

واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے آنے والی کئی مصنوعات کے ٹیکسوں میں بے تکا اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں ترکی کی کرنسی کی قدر میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے، اس بات کا ترکی کے صدر کو بہت غصہ ہے۔