کراچی بدل رہا ہے الطاف حسین نے دیر کر دی روحیل اصغر

ایم کیوایم کے ووٹ بینک میں کمی آئی ہے، رہنما ن لیگ کی تکرار میں گفتگو.


Monitoring Desk May 27, 2013
تنظیم نو پر بات مناسب نہیں،جاکھرانی، انقلاب نہیں آیا، مظہر عباس،نعیم خانزادہ. فوٹو: فائل

ن لیگ کے رہنما روحیل اصغر نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے سربراہ کی اپنے ذمے داروں کے خلاف کارروائی سے ثابت ہو گیا کہ اس میں ایسے عناصر شامل تھے جو پلاٹوں پر قبضوں اور دیگر جرائم میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کا سیاسی رخ تبدیل ہو رہا ہے، ایم کیوایم کے ووٹ بینک میں کمی آئی ہے اب تحریک انصاف سمیت دوسری سیاسی جماعتیں اس کیلیے خطرہ بن گئی ہیں، اس لیے شاید الطاف حیسن نے اپنے ووٹ بینک کو بحال کرنے اور متحدہ پر قتل وغارت اور جرائم میں ملوث ہونے کا جو تاثر ہے اس کو زائل کرنے کیلیے پارٹی میں تبدیلیاں کی ہیں تاہم انھوں نے بہت تاخیر کر دی ہے، اگر پیپلز پارٹی سندھ میں بہتر کام کرتی ہے تو ہم سب کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں گفتگو کررہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما گل محمد جاکھرانی نے کہا کہ ایم کیوایم میں ہونے والی تبدیلیاں پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ اس پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے، وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا انحصار وفاق پر ہو گا، ہم وفاق کے اچھے اقدامات میں ان کا ساتھ دیں گے اور غلط اقدامات پر مخالفت کریں گے۔



ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیوایم کی نئی رابطہ کمیٹی کو ہم چہرے کی تبدیلی کہہ سکتے ہیں، اس سے پارٹی کے ڈھانچے میں کوئی انقلاب نہیں آیا، تاہم یہ مثبت تبدیلی ہے،اگرچہ انتخابی نتائج اتنے برے نہیں تھے اس کے باوجود ایم کیوایم نے تنطیم نو کی ہے، لوگ اور متحدہ کے کارکن توقع کر رہے تھے کہ کن کن عہدیداروں پر کرپشن کے الزامات ہیں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ ایکسپریس نیوز کے نمائندے نعیم خانزادہ نے کہا کہ الطاف حسین کو تواتر کے ساتھ ایم کیوایم کے ذمے داروں کے خلاف شکایت مل رہی تھیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق پارٹی میں تبدیلیوں کا فیصلہ 6 سے 8 ماہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا جسے الیکشن کے بعد تک موخر کیا گیا، نئی رابطہ کمیٹی خصوصاً لندن کی رابطہ کمیٹی میں 35 سے 40فیصد چہرے پرانے ہی ہیں، تنظیم نو کا سلسلہ ایک ماہ میں مکمل ہو گا-