پاک امریکا بڑھتی ہوئی کشیدگی

امریکا کے رویے میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چین اور روس کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔


Editorial September 04, 2018
امریکا کے رویے میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چین اور روس کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی 30کروڑ ڈالر امداد منسوخ کرنے کے حوالے سے اتوار کو میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کو امداد نہیں بلکہ اتحادی سپورٹ فنڈز کی مد میں ڈالرز دے رہا تھا،یہ ہمارا پیسہ ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان خرچ کر چکا ہے، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے کے استحکام کے لیے افواج پاکستان اور شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، امریکا کے ساتھ عزت و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلقات بحال کریں گے، خطے سے دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی ہم منصب مائیک پومپیو 5ستمبر کو پاکستان آ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ تعلقات کی بحالی کے لیے مل بیٹھ کر بات کریں ، ہم ان کا نقطہ نظر سنیں گے اور اپنا پیش کریں گے، گزشتہ حکومت میں امریکا کے ساتھ گفت و شنید تعطل کا شکار تھی اور اس وقت بھی امریکا کے ساتھ تعلقات تقریباً معطل ہیں اب ایک نئی اوپننگ ہوئی ہے۔

ایک خبر کے مطابق پاکستان کی امداد کی منسوخی کا نوٹیفکیشن ستمبر کے آخر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترجمان پینٹاگون لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر نے ایک بیان میںکہا کہ امداد دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر منسوخ کی گئی، پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا پھر سے آغاز کرے تو امداد حاصل کر سکتا ہے، امریکا پاکستان پر ملک میں سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ انھوں نے کہا 30 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخی کا فیصلہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کیا جب کہ پاکستان کی 2 کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی کتاب پر نشیب و فراز کی داستان رقم ہے' کبھی تعلقات میں اس قدر گرم جوشی کے مظاہر سامنے آئے کہ یک جان دو قالب کا گماں ہونے لگا اور پاکستان پر امریکی مہربانیوں اور نوازشات کی بارش برسنے لگی اور کبھی سرد مہری کا وہ دور بھی تاریخ نے دیکھا کہ امریکی حکومت کے اہلکار پاکستان پر پابندیاں لگانے پر کمربستہ ہو گئے۔

خارجہ تعلقات میں ہر ملک اپنے قومی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتا ہے' امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی اس کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں' نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان میں اسامہ گروپ اور طالبان کے خلاف کارروائی کرنا تھی تو اسے پاکستان کی ضرورت پیش آگئی' امداد کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو اس قدر بڑھایا گیا کہ پاکستان کو نیٹو اتحادی کا درجہ تک دے دیا گیا۔

اب امریکا کو پاکستان کی ضرورت نہیں رہی تو اس نے اس کی نہ صرف امداد روک دی بلکہ ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا اعتراف کرنے کے باوجود اب اپنا رویہ مزید سخت کرتے ہوئے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ ہم آپ کی کارروائیوں سے مطمئن نہیں آگے بڑھیے اور مزید کارروائیاں شروع کریں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے پاکستان کو بھرپور امداد فراہم کی مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے یہ امداد روک رکھی ہے' ایک خبر کے مطابق ترجمان پینٹاگون لیفٹیننٹ کرنل کوفی فاکنر کا کہنا ہے کہ کانگریس نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کے 50کروڑ ڈالر رواں سال کے آغاز میں ہی روک لیے تھے جس کے بعد اب تک روکی جانے والی کل رقم 80کروڑ ڈالر ہو چکی ہے۔

امریکا کے رویے میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا جھکاؤ چین اور روس کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے' پاکستان کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ صرف امریکا کے سہارے پر معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ امریکا مختلف فورمز پر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے' اس کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنا بھی اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان باہمی اعتماد اور عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر امریکا سے اپنے روابط کو آگے بڑھانا چاہتا ہے' 30کروڑ ڈالر کوئی امداد نہیں ہے جو معطل ہو گئی یہ وہ پیسہ ہے جو پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خرچ کیا جس کو امریکا نے ادا کرنا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا لائحہ عمل اپناتی اور امریکا کو اپنے موقف پر کیسے راضی کرتی ہے اور امریکا اس کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے امداد بحال کرتا ہے یا نہیں۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور موجودہ حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان بھی۔