دریاؤں کی سطح میں کمی پانی بحران کا خدشہ

24 گھنٹے کے دوران 25 ہزار سے زائد کیوسک پانی کی کمی سے نہروں میں پانی کی فراہمی بھی کم ہونا شروع ہوگئی۔


Editorial September 04, 2018
24 گھنٹے کے دوران 25 ہزار سے زائد کیوسک پانی کی کمی سے نہروں میں پانی کی فراہمی بھی کم ہونا شروع ہوگئی۔ فوٹو: فائل

ملک میں جاری پانی بحران کے خدشات شدید تر ہوتے جارہے ہیں، جب کہ ملک میں بہنے والے دریاؤں کی سطح میں تیزی سے کمی نوٹ کی جارہی ہے۔ پانی کے بحران پر پاکستان اکانومی واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے ملک صحرا میں تبدیل ہورہا ہے، اس لیے حکومت کواس مسئلہ پر فوری توجہ دینا ہوگی۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ ملکی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے لیکن ستر سال بعد پہلی قومی آبی پالیسی بنائی گئی ہے جب کہ سندھ اور پنجاب کو تاحال اپنی آبی پالیسیوں کا اعلان کرنا باقی ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ ملک میں پانی کی قلت کے شور کے باوجود نہ تو واضح پالیسی سامنے آئی ہے اور نہ ہی پانی کا ضیاع روکنے کے لیے کوئی شخص سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1951 میں ہر پاکستانی شہری کے لیے پانی کی دستیابی5,260 کیوبک میٹر تھی جو 2016 میں کم ہوکر 1000کیوبک میٹر ہوگئی اور یہ 2025 تک کم ہوکر 860 کیوبک میٹر رہ جائے گی۔ دوسری جانب ایک اطلاع کے مطابق دریائے سندھ سکھر کے مقام پر آبی سطح تیزی سے کم ہونے لگی ہے، 24 گھنٹے کے دوران 25 ہزار سے زائد کیوسک پانی کی کمی سے نہروں میں پانی کی فراہمی بھی کم ہونا شروع ہوگئی۔ بارشیں نہ ہوئیں تو آبی بحران کا خدشہ ہے۔

بھارت ایک سازش کے تحت پاکستانی دریاؤں پر قبضہ کے پلان پر گامزن ہے جب کہ سندھ طاس معاہدے کی مستقل خلاف ورزی اور پاکستانی دریاؤں پر بند بنانے کی بھارتی روش جاری ہے۔ گزشتہ دنوں سندھ طاس معاہدے کے تحفظات پر گفتگو کے لیے بھارتی وفد کی ہٹ دھرمی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت پاکستان کو پانی کے مسائل کے دوچار کرنا چاہتا ہے۔

چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس پاک بھارت آبی تنازعات پر حالیہ مذاکرات ہی عالمی سازشی تھیوری کا حصہ تھا، بھارت کی ہٹ دھرمی سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ وہ ان مذاکرات کی آڑ میں پاکستان کے دریا اپنی حدود میں بند کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، زیر زمین پانی بھی اب صرف 21 فیصد رہ گیا ہے۔ بھارت کی اس خطرناک آبی دہشتگردی کو جنگی بنیاد پر نہ روکا گیا تو یہاں صومالیہ اور ایتھوپیا سے بھی بدتر حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ صائب ہوگا کہ پاکستانی حکومت اس سلسلے میں راست اقدامات کرے۔