بجلی چوری روکنے کے لیے پری پیڈ میٹرز نصب ہونگے

عوامی سطح پر نجی پاورکمپنیوں نے نرخوں میں اضافے اور زائد بلنگ کے نام جو لوٹ مچا رکھی ہے۔


Editorial September 05, 2018
عوامی سطح پر نجی پاورکمپنیوں نے نرخوں میں اضافے اور زائد بلنگ کے نام جو لوٹ مچا رکھی ہے۔ فوٹو: فائل

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف بڑی کارروائی کرنے اور پری پیڈ میٹر لگانے کی تجویز دیتے ہوئے تمام غیرقانونی کنکشنزتین ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ اجلاس کے دوران سابق حکومت کی جانب سے 480 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگیاں غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے پورے پاورسیکٹرکا فنانشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

نئی حکومت نظام میں تبدیلی کی خواہاں ہے اور اس کے لیے تیزی سے کام کرنا چاہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک میں ایک جانب تو توانائی کا شدید بحران ہے، بجلی کی طلب اور رسد میں نمایاں فرق ہے، اتنی سنگین صورتحال کے باوجود قانونی شکنی کا چلن بھی عام ہے۔ بااثر افراد سمیت حکومتی ادارے کسی نہ کسی حیلے بہانے سے بجلی کے بل ادا نہیں کرتے ، اس کی روک تھام اشدضروری ہے سب کے خلاف بلاامتیازکارروائی سے عام افراد کو ریلیف ملے گا جو باقاعدگی سے بل ادا کرنے کے باوجود آٹھ سے دس گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلتے ہیں اور بجلی چور مزے اڑاتے ہیں۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم ہاوس سمیت جو بھی بل ادا نہیں کرے گا اس کی بجلی کاٹ دی جائی گی۔ اس بات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ سب کے خلاف ایکشن ہوگا ، لیکن عوامی سطح پر نجی پاورکمپنیوں نے نرخوں میں اضافے اور زائد بلنگ کے نام جو لوٹ مچا رکھی ہے ، اس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں گردشی قرضوں کی ادائیگیوں کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے گڑبڑکرنیوالے ذمے داروںکا تعین اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو گردشی قرضوں کا بوجھ ملکی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، یہ معیشت کے چلتے پہیے کو روکنے کے مترادف ہے ، اول تو ان گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایسا منظم نظام وضع کیا جائے، جس میں کرپشن کی گنجائش نہ ہو۔ کمیٹی نے بجلی نرخوں میں دو روپے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن 10 روز میں جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بجلی نرخوں میں اضافے سے صارفین پر 150 ارب روپے سالانہ اضافی بوجھ پڑیگا ،ان سے کب سے وصولی کی جائے گی، اس کا فیصلہ حکومت کرے گی۔حکومت ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہتی ہے تو ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جس سے عوام براہ راست متاثر ہوں ، پہلے ہی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔