نجی اسکولوں کی فیس پر سندھ ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

انگلش میڈیم اور اسٹینڈرڈ کے نام جوکھلواڑ تعلیم کے نام پر ہو رہا ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ تعلیم کی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔


Editorial September 05, 2018
انگلش میڈیم اور اسٹینڈرڈ کے نام جوکھلواڑ تعلیم کے نام پر ہو رہا ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ تعلیم کی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ فوٹو:فائل

سندھ ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق اہم فیصلہ دیا ہے، فیصلہ سناتے ہوئے اسکولوں کی فیسوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ بہت ہی خوش آئند ہے، کیونکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے باعث پرائیوٹ اور نجی اسکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں زیرتعلیم بچے اوران کے والدین سالانہ فیس میں اضافے کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا شکار تھے۔

ہماری بدقسمتی کہہ لیں کہ ہمارے یہاں تعلیم منافع بخش کاروبارکی صورت اختیارکرچکی ہے ۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے من مانی فیسیں وصول کرتے ہیں، وہ مختلف دن منانے ، تین ماہ کی چھٹیوں کی فیس لینے، انتہائی قلیل ماہانہ مشاہرے پر اساتذہ کو بھرتی کرنے، اسکول کی پرنٹ شدہ کاپی،کتابیں اور یونیفارم لینے پر والدین اور طلبا کو مجبورکرتے ہیں۔

انگلش میڈیم اور اسٹینڈرڈ کے نام جوکھلواڑ تعلیم کے نام پر ہو رہا ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ تعلیم کی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ سماعت کے بعد پیرنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنما نے کہا کہ آج ہم نے بڑی جیت حاصل کی ہے، ہر پرائیوٹ اسکول پابند ہے کہ وہ 5 فیصد سے زائد فیس نہ بڑھائے، 2005 سے پرائیویٹ اسکول توہین عدالت کے مرتکب اور قانون کی خلاف ورزی کررہے تھے ہم نے اسے چیلنج کیا تھا۔

بلاشبہ سول سوسائٹی اور والدین کی جدوجہد کے نتیجے میں سندھ کی سطح پر ایک صائب اور مثبت فیصلہ آیا ہے،اس سے یقیناً والدین کو ریلیف ملے گا،لیکن فیصلے پر علمدرآمد کروانے کے لیے صوبائی محکمہ تعلیم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔