گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کی منظوری

مہنگائی کا جن بے قابو ہے، ایسے میں گیس کے نرخوں میں اضافہ صارفین کے لیے پریشان کن ہے۔


Editorial September 07, 2018
مہنگائی کا جن بے قابو ہے، ایسے میں گیس کے نرخوں میں اضافہ صارفین کے لیے پریشان کن ہے۔ فوٹو:فائل

وزیراعظم پاکستان نے گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کی سمری آیندہ ہفتے ای سی سی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 180 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے چار سال میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا، گیس کے لائن لاسز سے سالانہ 50 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، قومی خزانے کو ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ اب تک نرخوں میں بڑھوتری میں سب سے زیادہ فیصد اضافہ ہے، جس کے اثرات لامحالہ عوامی سطح پر منفی مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے گیس کے نرخوں میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پی پی پی کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے گیس نرخوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کرنے والوں نے آتے ہی مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔ این این آئی کے مطابق پیپلز پارٹی نی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ براہ راست ٹیکسوں کے اطلاق اور پٹرولیم و گیس مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے، بلاشبہ موجودہ حکومت اپنے سو دن کے پلان میں فوری اور سخت فیصلے لینے پر مجبور ہے لیکن ابتدائی دنوں ہی میں گیس کی قیمت میں 46 فیصد اور بجلی کے فی یونٹ قیمت میں 2 روپے اضافے کا فیصلہ عوام کو پریشانی میں مبتلا کررہا ہے، شناختی کارڈ اور اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے پر بھی ٹیکس لگا دیے گئے ہیں۔ حکومت کے ابتدائی 20 دنوں میں نئے ٹیکسز لگانے کے فیصلوں پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب عوام بھی مضطرب ہیں کہ نئے ٹیکسز مہنگائی کے عفریت کو کھلی چھوٹ دینے کا باعث بنیں گے۔

عوام کی قوت خرید پہلے ہی کم ہوچکی ہے، مہنگائی کا جن بے قابو ہے، ایسے میں گیس کے نرخوں میں اضافہ صارفین کے لیے پریشان کن ہے۔ واضح رہے کہ منگل کو توانائی کے وفاقی وزیر نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں نہ صرف گیس کے نرخ بڑھانے کی سمری پیش کی تھی بلکہ اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا تھا کہ اس وقت 50 ارب روپے کی گیس سالانہ چوری ہورہی ہے۔

صائب ہوتا کہ گیس کی قیمتوں میں یک لخت اس قدر اضافے کے بجائے گیس چوری روکنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جاتی، نیز نرخوں میں اضافہ کرنا اس قدر ہی ناگزیر ہے تو دس فیصد کے اندر کیا جائے کیونکہ قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوں گے بلکہ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے لیے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ پریشانی کا باعث بنے گا جب کہ ملک میں کاروبار کی گرانی اور مہنگائی کے گراف سے حکومتی اکابرین پہلے ہی واقف ہیں۔ صائب ہوگا کہ نئی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے۔