پاک امریکا تعلقات کی نئی بنیاد

پاک امریکا تعلقات معمول پر آنے کے کچھ امکانات روشن ہوئے تو ہیں۔


Editorial September 07, 2018
پاک امریکا تعلقات معمول پر آنے کے کچھ امکانات روشن ہوئے تو ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی منگل کو پاکستان آمد کے نتیجہ میں پاک امریکا تعلقات میں تعطل کی برف پگھلی اور پیچ در پیچ تلخیوں کے خاتمہ کی نوید ملی ہے، میڈیا کے مطابق دوطرفہ تجارت، انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون سمیت وسیع تر کامیابیوں کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ امریکا کو احساس دلایا گیا کہ امریکا کی طویل ترین لاحاصل جنگ میں افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کا کردار آج بھی اہم ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان سے تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی، بادی النظر میں پومپیو کی وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں مفید رہیں جس میں پاکستان نے امریکا پر واضح کیا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان پہلے ہی سے کارروائی کرتا آرہا ہے لہٰذا امریکا کا ہر مطالبہ پورا نہیں کرسکتے۔ یہ بلیغ اور بروقت پیغام مائیک پومپیو کو ایسے وقت پہنچایا گیا جب پاک امریکی تعلقات میں ابتری ملک کو درپیش خارجی محاذ کا سب سے اہم چیلنج ہے جب کہ وفاقی کابینہ اہم معاملات پر دوررس فیصلے کررہی ہے۔

امریکی سابق سفارت کار وینڈی آر شرمین نے اپنی نئی کتاب ''ناٹ فار دی فینٹ آف ہارٹ'' میں امریکی ڈپلومیسی میں دو چیزوں کی ضرورت پر زور دیا ہے، یونی ٹف اور اسمارٹ ڈپلومیسی، پومپیو غالباً اپنے ساتھ جان بولٹن کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے عقابی اور جارحانہ عزائم کے حامل منصب کار گردانے جاتے ہیں اور پاکستان سے خطے اور افغان صورتحال کے حل کے لیے پاکستان سے غیر معمولی فرمائشوں کے ساتھ آئے ہونگے، یوں پہلی بار امریکی وفد سے زمینی حقائق کی روشنی میں دو ٹوک بات کی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی پاک امریکا تعلقات تقریباً ''زیرو سم گیم'' تک پہنچ چکے تھے، پاکستان سے اپنے پیشروؤں کی طرح پومپیو نے بھی ڈو مور کا مطالبہ دہرایا، تاہم وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں ڈومور کی معنی خیز سفارتی تفہیم پیش کی اور کہا کہ بات چیت ٹف نہیں تھی، مبصرین کا اصرار تھا کہ کیا پومپیو خیر سگالی دورے پر آئے تھے یا ان کی آمد غیر روایتی اور فرسودہ گن بوٹ ڈپلومیسی سے سرشار تھی۔

بہرحال بعض تجزیہ کاروں اور اپوزیشن حلقوں کا کہنا تھا کہ مشترکہ پریس کانفرنس سے بدگمانیوں اور شکوک کو رفع کیا جاسکتا تھا، مبصرین کا کہنا تھا کہ پومپیو اور پاکستانی وزیر خارجہ کی ملاقات اور تفصیلی بات چیت کے بعد اگر مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوتی تو محتاط گفتگو کی پراسراریت کا تصور مٹ جاتا۔ مگر اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ سوال جواب کا سیشن ہی تلاطم خیز بنتا، پھر کیا ہوتا۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں آج جمود ٹوٹا ہے اور دنیا میں یہ مثبت پیش رفت کہی جائے گی کہ افغانستان مسئلہ کا حل جنگ نہیں مذاکرات ہی میں مضمر ہے۔

اور یہ بات عمران خان، شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل باجوہ نے شرح صدر کے ساتھ اپنے امریکی مہمانوں کو بتائی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان اور وہاں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف مستقل و فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں، عالمی برادری پاکستان کی قربانیاں تسلیم کرے، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کردار ادا کرتا رہے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اور دیگر سول و ملٹری شخصیات سے ملاقاتیں کیں جب کہ ان کے ہمراہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ بھی موجود تھے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے پاک امریکا تعلقات میں تعطل ختم ہوگیا، امریکا نے ڈومور کا مطالبہ نہیں کیا، پاکستان کا موقف حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جسے سنا گیا، مذاکرات کا اگلا دور واشنگٹن میں ہوگا، عندیہ ملا کہ امریکا افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، ہم نے واضح کیا پاکستان افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے کردار ادا کریگا تاہم واضح کیا اگر ہم نے مغرب کو توجہ دینی ہے تو مشرق میں سہولت چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے اختتام پر بدھ کو یہاں دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری تھی لیکن آج ملاقات میں ماحول بدلاہوا تھا، یہ تاثر غلط ہے کہ 'ٹف ٹاکنگ' ہوئی، ڈومور کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ہوا ہے، آپ کو باڈی لینگویج سے اندازہ ہوگا کہ یہ ملاقات خوشگوار تھی، میں نے پاکستان کا موقف حقیقت پسندانہ انداز میں بردباری، خودداری اور ذمے داری سے پیش کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ہمارا مقصد امن، استحکام اور علاقائی وابستگی ہے، ہماری خارجہ پالیسی کو اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے معاون بننا ہوگا، اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میرا پہلا غیرملکی دورہ افغانستان کا ہوگا، افغانستان ہمارا پڑوسی بھی ہے، ہم ایک دوسرے کا سہارا بھی ہیں، ضرورت بھی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ماضی میں سول اور ملٹری حکام کی الگ الگ ملاقاتیں چہ میگوئیوں کا باعث بنتی تھیں، امریکی پہلے وزیراعظم ہاؤس، پھرجی ایچ کیو میں ملاقاتیں کرتے تھے لیکن آج امریکیوں کو واضح پیغام دیا کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں، آج ملاقات میںآرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے، امریکی امداد کے حوالے سے سوال پر شاہ محمود قریشی نے توضیح پیش کی کہ چونکہ پاکستان نے امداد طلب نہیں کرنی اس لیے اس حوالے سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جب کہ سیاسی حلقوں کا کہنا تھا کہ 300 ملین ڈالر امداد کی منسوخی یا ''پاکستان کی اپنی رقم'' پر شاہ صاحب کو اسٹینڈ لینا چاہیے تھا، بہرحال وزیر خارجہ نے عذر پیش کیاکہ میں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملہ پر بات نہ کی جائے، کیونکہ ہمارا تعلق صرف لینے دینے کا نہیں ہے۔

ادھر وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن کے اپنے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا ایجنڈا انسانی ترقی اور تخفیف غربت پر مرکوز ہے جس کے لیے خطہ میں امن و استحکام بنیادی تقاضا ہے۔ میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی تعلقات کے استحکام کا خواہاں ہے۔

بعدازاں بھارت روانگی سے قبل نور خان ایئر بیس پر گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو افغانستان کا پرامن حل تلاش کرنا ہوگا، امید ہے آج کی ملاقات آگے بڑھنے کی بنیاد بنے گی، ہم نے واضح پیغام دیا ہے کہ مل کر کام کرنے کا وقت ہے، ہم ماضی میں بہت معاہدے کرچکے مگر عمل نہیں ہوا، مائیک پومپیو نے کہا کہ پاکستان نے اب تک دہشت گرد گروہوں کے خلاف اتنی کارروائی نہیں کی کہ اس کی منسوخ شدہ امریکی امداد بحال کی جاسکے۔

امریکی وزیرخارجہ سے ہونے والی بات چیت سے مستقبل میں پاک امریکا تعلقات اور افغان صورتحال کی سمت سازی میں کیا مدد ملے گی اس کا اندازہ پاکستانی وزیرخارجہ کے واشنگٹن دورے سے ہوسکے گا تاہم اس بات پر سب متفق نظر آتے ہیں کہ پاک امریکا تعلقات معمول پر آنے کے کچھ امکانات روشن ہوئے تو ہیں۔