دَرداں ماری جندڑی
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک بے حد مقبول عام اور پر رونق سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نےکہیں سےکسی سرائیکی شاعرکا...
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک بے حد مقبول عام اور پر رونق سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے کہیں سے کسی سرائیکی شاعر کا یہ شعر سنا اور اس قدر پسند آیا کہ اسے انھوں نے اپنی سیاست کا مرکزی خیال بنا لیا۔ وہ شعر ہے:
دَرداں دی ماری جندڑی علیل اے
سوہنا نہ سندا' دکھاں دی اپیل اے
جلسوں میں تو زیادہ نہیں لیکن ان کی پرائیویٹ محفلوں میں سوچ کے ایک خاص موڑ پر یہ شعر میں نے کئی بار سنا۔ شروع کے ان دنوں میں ان کا ٹھکانا لاہور کا ایک پرانا ہوٹل فلیٹیز تھا۔ اس ہوٹل کے باہر جانے والے دروازے کے ساتھ کونے میں جو بڑا سا کمرہ تھا، یہ ان کی قیام گاہ تھی اور اسی کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ ان کی سیاست گاہ تھی۔ یہاں جو لوگ عموماً دکھائی دیتے ان میں سے ایک تو سمن آباد کی ایک 'مشہور' شخصیت تھے جو بھٹو صاحب کے خصوصی خادم بھی کہے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ لاہور کے سیاسی کارکن جو اس نئے لیڈر کی ٹوہ میں آتے تھے کہ یہ شخص بطور ایک پبلک لیڈر کیسا ہے' اس کا مزاج کیا ہے اور اس کا رویہ کیسا ہے۔ لوگ اسے ایوب خان کے ایک وزیر کے طور پر تو جانتے تھے لیکن اس کی غیر سرکاری زندگی سے بالکل ناواقف تھے۔
میں اس زمانے میں ایک اخباری رپورٹر تھا اور یہ ہوٹل میرے دفتر کے بالکل قریب بس سڑک کے دوسری طرف تھا، اس لیے اکثر وہاں جاتا رہتا۔ ایسی ہی ملاقاتوں میں ان کی زبان سے میں نے یہ سرائیکی شعر بارہا سنا تھا۔ اس شعر کا جواب انھوں نے اپنے سیاسی نعرے ''روٹی' کپڑا' مکان'' کی صورت میں دیا۔ گویا علیل یعنی بیمار' غمزدہ اور پریشان حال جان اور جندڑی کے دکھوں کا جواب اس نعرے کی تکمیل تھی اور یہی نعرہ تھا جسے سرائیکی شاعر نے درداں دی ماری علیل جندڑی کی زبان سے بیان کیا تھا، کسی آنے والے سیاست دان کے لیے جو درداں دی ماری علیل جندڑی کی زبان سمجھتا تھا اور اس کے دکھوں کا علاج بھی۔
سندھ کے ذوالفقار علی بھٹو ذاتی طور پر جیسے بھی تھے وہ ایک حساس اور پڑھے لکھے نوجوانی سے گزر جانے والے لیڈر تھے اور اپنی بچی کھچی جسمانی طاقت سیاست پر قربان کر چکے تھے۔ یہ یاد کر کے میں آج بھی حیران ہو جاتا ہوں کہ وہ صبح ناشتے کے بعد اپنے اس ہوٹل کے باہر کسی ٹرک پر سوار ہوتے تھے اور ٹرک کے ٹول بکس کہلانے والے اسٹیج نما حصے میں کھڑے ہو جاتے تھے، کبھی بیٹھ بھی جاتے لیکن پورا دن وہ سیاسی مشقت میں گزار دیتے، تقریریں جاری رہتیں۔ ہم رپورٹر ان کے اس سست رفتار جلوس کے ہمراہ کبھی چند قدم چل لیتے اور کبھی قریب کے کسی ریستوران میں بیٹھ جاتے۔
بھٹو کے پرستار چائے خانوں والے عموماً ہم سے بل نہ لیتے خصوصاً ایک بار جب میں نے بیرے کو اپنی جیب سے بل جمع کراتے دیکھا تو اس کو پکڑ لیا اور نہ جانے کتنی منت سماجت کے بعد اسے یہ بل وصول کرنے پر قائل کیا۔ یہ بیرا بھٹو کے ذکر پر آبدیدہ ہو جاتا تھا۔ انھی لوگوں کی علیل جندڑی کے لیے بھٹو صاحب نے اپنی سیاست کا ڈراما رچایا۔ یہ جندڑی آج بھی علیل ہے اور اس کے دکھوں کا علاج روٹی' کپڑا' مکان ہے جو نہ بھٹو صاحب نے دیا نہ ان کے کسی جانشین حتیٰ کے بیٹی نے بھی اور ان کے داماد نے تو بھٹو کے عوام کے منہ سے وہ نوالہ ہی چھین کر کہیں باہر پھینک دیا۔ گزشتہ پورے پانچ برس بھٹو کے وارثوں کی حکومت رہی اور ان پانچ برسوں میں وہ جندڑی علیل ہی نہیں، افلاس کی خاک میں مل گئی۔ جنازے کے بغیر دفن کر دی گئی۔
پاکستان کے بدقسمت عوام کے ساتھ یہ ظلم صرف بھٹو خاندان نے نہیں کیا، اس پانچ سالہ دور کی پوری سیاسی برادری نے کیا جو سب کے سب بھٹو صاحب کے ساتھی بن گئے۔ اس صورت حال پر کسی تجزیہ کار کو محنت کرنی پڑے گی کہ ایک قوم کے خلاف اس کی پوری سیاسی قیادت کیوں متحد اور متفق ہو گئی جب کہ اس قوم نے ہر حکمران کا خیرمقدم ہی کیا خواہ وہ کوئی سیاست دان تھا یا سیاست سے بے بہرہ کوئی فوجی۔ اب الیکشن ہو گیا ہے یہ کسی تجزیہ کار کا ایک الگ موضوع ہے کہ کیوں ہوا۔ بہرحال اس کے نتیجے میں کچھ لوگ منتخب ہو کر آئے جو کل حکمران ہوں گے یا حکمرانی کا دعویٰ کریں گے۔ تعجب ہے کہ یہ سب کے سب پرانے لوگ یعنی پرانی طرز کے سیاست دان ہیں لیکن ان میں ایک نیا عنصر نوجوانوں کا ہے جو پاکستان کی تاریخ کا ایک بالکل ہی نیا موڑ اور نیا دور ہے۔ ان کا لیڈر بھی ایک نوجوانی کا مزاج رکھنے والا نوجوان ہی ہے جو ایک سخت حادثے سے جانبر ہونے کے سلسلے سے گزر رہا ہے۔
اپنی بہت ساری پاکستانی کمزوریوں کے باوجود اس کا وجود ہماری سیاست کے اجڑے دیار کے ایک گل و گلزار کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے سبزہ لہرا رہا ہے اور پھول مہک رہے ہیں۔ بار بار کی زخم خوردہ قوم اپنی امیدوں کی اس نئی فصل سے بھی گزر جائے گی۔ اس دوران ہمارے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اب ایک پرانے سیاست دان ہیں اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف عوام کی خدمت کی ایک مثال ہیں۔ پاکستان کا مستقبل اب فوری طور پر ان دونوں بھائیوں کے اختیار میں ہو گا اور اب زیادہ دیر نہیں کہ ہم ان دونوں تجربہ کار سیاسی بھائیوں کا انداز حکمرانی دیکھ لیں گے۔ میں چونکہ صرف ایک رپورٹر ہوں' تجزیہ کار نہیں ہوں اس لیے فی الحال صبر کے ساتھ سب دیکھ رہا ہوں اور جو دیکھوں گا اسے آپ کی خدمت میں پیش کر نے کے انتظار میں ہوں۔ آپ کی طرح ہم سب انتظار کرتے ہیں کہ بھٹو کی جندڑی کیا علیل ہی رہتی ہے یا اس کے دن پھرتے ہیں۔