کوٹری زیر حراست ملزم پولیس تشدد سے ہلاک ورثا نے چوکی جلا دی

پولیس عبدالغفار گبول کی ہلاکت کے بعد لاش کو چوکی میں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔


Nama Nigar May 29, 2013
پولیس عبدالغفار گبول کی ہلاکت کے بعد لاش کو چوکی میں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔ فوٹو: فائل

نوری آباد پولیس چوکی نمبر 5 میں زیر حراست ملزم عبدالغفار گبول مبینہ پولیس تشدد میں ہلاک۔

ورثاء کا سپر ہائی وے پر لاش سمیت دھرنا،ٹریفک کئی گھنٹے معطل، مشتعل مظاہرین نے پولیس چوکی کو آگ لگا دی۔ تٖفصیلات کے مطابق سپر ہائی وے پر قائم نوری آباد چوکی نمبر 5 کے انچارج شبیر لاڑک نے گٹکا، مین پوری فروخت کرنے کے الزام میں عبدالغفار گبول کو گرفتار کیا تھا جو کہ مبینہ پولیس تشدد سے ہلاک ہو گیا۔

پولیس عبدالغفار گبول کی ہلاکت کے بعد لاش کو چوکی میں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ورثاء پہنچ گئے اور لاش کو سپر ہائی وے پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا، مشتعل افراد نے چوکی کو بھی آگ لگا دی اور سپر ہائی وے کے دونوں اطراف رُکاوٹیں کھڑی کر کے شاہراہ بلاک کر دی، جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔



سپر ہائی وے کئی گھنٹے بند رہنے کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں نوری آباد پولیس کی یقین دہانی پر ورثاء نے احتجاج موخر کر دیا۔ دوسری جانب گڈاپ پولیس نے متوفی عبدالغفارگبول کو زیر حراست تشدد کر کے ہلاک کرنے کے الزام میں چوکی انچارج شبیر لاڑک کو گرفتار کر لیا ہے، رابطہ کرنے پر نوری آباد پولیس نے ایکسپریس کو بتایا کہ منگل کی صبح چوکی انچارج شبیر لاڑک نے مین پوری، گٹکا فروخت کرنے کے الزام میں عبدالغفار گبول کو گرفتار کیا تھا ، ہلاکت پولیس تشدد سے نہیں بلکہ حرکت قلب بند ہونے کے سبب ہوئی ہے۔

مقبول خبریں