چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے عمران خان کو نومبر میں دورہ چین کی دعوت دی ہے


Editorial September 10, 2018
چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے عمران خان کو نومبر میں دورہ چین کی دعوت دی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ' وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے الگ الگ ملاقات میں چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات مضبوط بنانے کے سلسلے میں بات چیت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وفد کے ہمراہ ملاقات میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور یکساں خیالات پر مبنی ہیں ، عالمی برادری خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرے، سی پیک کے لیے سیکیورٹی کی فراہمی قابل ستائش اقدام ہے۔

پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے پاک فوج کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ انھوں نے کہا چین اشتراکیت پر مبنی خوشحالی پر یقین رکھتا ہے۔ آرمی چیف نے چینی وزیر خارجہ کے دورے اور چین کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا پاکستان کوعالمی تنازعات کے باعث بہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا، عالمی محاذ آرائی کے باعث پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ پاکستان کو دنیا میں جائز مقام دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔ امن و استحکام کے ذریعے اپنا جائز مقام حاصل کریں گے۔

اس وقت پاکستان کو داخلی سطح پر معاشی و اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں اور خارجی سطح پر دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکا جو پاکستان کو اقتصادی و فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہت سے رخنے پیدا ہو چکے ہیں اور امریکا اقتصادی و فوجی امداد میں کمی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے' ان گمبھیر اور پیچیدہ حالات میں پاکستان کو چین جیسے دوست کی طرف سے داخلی اور خارجی سطح پر کافی معاونت مل رہی ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے ہفتے کے کو دفتر خارجہ میں شاہ محمود قریشی سے ون آن ون ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں خطے کی صورتحال، سی پیک، دوطرفہ معاشی و ثقافتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چین نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے حمایت اور اسٹرٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے معاملے پر ہرممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، سی پیک منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ کا سب سے تیز رفتاری سے مکمل ہونے والا منصوبہ ہے، دونوں ممالک کی معاونت سے سی پیک کے منصوبوں پر نہایت تیزی سے کام جاری ہے، چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے عمران خان کو وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی گئی۔

جس سے اچھا تاثر گیا، چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے عمران خان کو نومبر میں دورہ چین کی دعوت دی ہے، ہم چینی صدر اور وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، چین اور پاکستان خطے اور بین الاقوامی سطح کے معاملات پر ایک دوسرے کے موقف کی تائید کریں گے، سی پیک پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، سی پیک موجودہ حکومت کے لیے بھی سب سے پہلی ترجیح رہے گا، ہم سی پیک میں جاری منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے دن رات کام کریں گے، چینی شہریوں کی پاکستان میں سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اس حوالے سے تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، ہم دہشت گردی کی تمام کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

چین میں پاکستان کی مصنوعات کو بڑھائیں گے، بین الاقوامی فورمز پر چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر ان کے شکرگزار ہیں، پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت میں چین کا بڑا کردار ہے۔شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین نے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکنزم بنانے پر بھی بات ہوئی ہے، سی پیک کے تحت پورے خطے کو ترقی کے مواقع فراہم ہوں گے، عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے، پاکستان اپنی سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، ہم ساری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ چین تو مختلف شعبوں میں پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پاکستانی حکومت کو بھی آگے بڑھ کر ملکی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا صرف چین کے سہارے پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ملک کو مشکلات کے گرداب سے نہیں نکالا جا سکتا۔