مصر میں اخوان المسلمون کے افراد کو سزائیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مصری عدالت کی ان سزاؤں کو ’’ڈس گریس فل‘‘ قرار دیا ہے


Editorial September 10, 2018
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مصری عدالت کی ان سزاؤں کو ’’ڈس گریس فل‘‘ قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل

مصر کی عدالت نے 2013ء میں صدر مرسی کے حکومت کے خاتمے کے ردعمل میں ہونے والے دھرنے، احتجاج ،ہنگامہ آرائی اور اس کے نتیجے میں اموات کے جرم میں 75 افراد کو موت کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ سزا پانے والوں میں ایک ممتاز اسلامی اسکالر بھی شامل ہے ۔

چھ سو سے زائد افراد کو قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی ہنگامہ آرائی میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور مظاہرین سمیت سیکڑوں افراد مارے گئے تھے اور ان سے کہیں زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ مظاہرین کی اکثریت کا تعلق اخوان المسلمین نامی جماعت سے تھا جنہوں نے قاہرہ کے ایک مرکزی چوک میں احتجاجی دھرنا دیا تھا۔بعد میں یہ دھرنا پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوگیا۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بہت سے مظاہرین مسلح تھے جن کی فائرنگ سے سیکیورٹی فورسز کے چالیس سے زائد اہلکار مظاہرین کے ساتھ تصادم میں مارے گئے تھے ۔ مرنے والوں میں آٹھ سو سے زائد مظاہرین بھی شامل تھے۔اس پر حکومت نے ایکشن لیا اور مختلف افراد پر مقدمات درج ہوئے' اب مصر کی عدالت نے 75 افراد کو موت کی سزا سنا دی ہے جب کہ 6سو افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مصری عدالت کی ان سزاؤں کو ''ڈس گریس فل'' قرار دیا ہے۔ مصری عدالت سے سنائی جانے والی تھوک کے حساب سے سزاؤں کو دیکھ کر اس محاورے کی حقانیت پر یقین آ جاتا ہے کہ سب سے بڑی ناانصافیاں انصاف مہیا کرنے والی عدالتوں میں ہی ہوتی ہیں، جہاں سقراط جیسے عظیم انسان کو سچ بولنے پر زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے۔ بہرحال مصر میں السیسی حکومت کے زیر اثر اس عدالتی فیصلے پر تنقید ہو رہی ہے' جن لوگوں کو سزا ہوئی' یہ بنیادی طور پر سیاسی کارکن ہیں' زیادہ بہتر ہوتا' اگر سیاسی کارکنوں کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کیا جاتا اور انھیں اصلاحی راستے پر لانے کی کوشش کی جاتی' اب ان سزاؤں سے مصر میں سیاسی بے چینی بڑھے گی، دائیں بازو کے مذہبی طبقے میں غم وغصہ بڑھے گا۔

جس کے نتیجے میں حالات کسی بھی وقت خراب ہوسکتے ہیں۔مسلم ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں لبرل اور قدامت پرست مذہبی حلقوں میں اختلافات انتہائی شدت اختیار کرگئے ہیں حالانکہ امور مملکت چلانے کے لیے دور اندیشی، تدبر، رواداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید دور میں ریاست کے امور کسی ایک فکر یا گروہ کی زبردستی سے نہیں چلائے جاسکتے ، اس کے لیے جیو اور جینے دو کے اصول کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔