لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا حتمی دن

جناب میاں نواز شریف تو بڑے پائے کے سیاسی لیڈر ہیں اس لیے انھوں نے اپنی صوابدید کے مطابق صاف صاف بات کی ہے کہ...


Saad Ulllah Jaan Baraq May 29, 2013
[email protected]

جناب میاں نواز شریف تو بڑے پائے کے سیاسی لیڈر ہیں اس لیے انھوں نے اپنی صوابدید کے مطابق صاف صاف بات کی ہے کہ خزانہ خالی ہے اس لیے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ لیکن ہم نہ تو لیڈر ہیں نہ کسی لیڈر کے ریڈر ہیں اور نہ ہی کسی ریڈر کے ''فیڈر'' ہیں، بلکہ اخبارات و رسائل میں باباؤں کی پیشین گوئیاں پڑھ پڑھ کر اتنی شدبد حاصل کر چکے ہیں کہ چھوٹی موٹی پیشین گوئیاں کر سکتے ہیں۔

اس لیے ہمارے لیے یہ بہت ہی آسان ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی تاریخ بھی بتا دیں بلکہ اس زبردستی کے مہمان کی گزشتہ خاندانی تاریخ بھی پیش کر سکتے ہیں، ہر دعوے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم بھی پہلے اپنی پیشین گویانہ صلاحیت پر دلیل بلکہ حجت پیش کریں گے مثلاً ہم ابھی سے یہ بتا سکتے ہیں کہ کل صبح جب پاکستان کے عوام جاگیں گے تو ٹھیک پانچ بج کر پچپن منٹ پر سب کے سر کانوں کے بیچ میں آ جائیں گے اور کان، سر کے دائیں بائیں چپک جائیں گے، دوسری پیشین گوئی یہ ہے کہ پاکستان کا خالی خزانہ ٹھیک اسی دن لبالب بھر جائے گا جب نئی اسمبلیوں کے منتخب نمایندے اپنے حلف اٹھا لیں گے، ٹھیک اسی دن پاکستان کے تمام محکمے خسارے کے بجائے منافعے میں چلے جائیں گے۔

جس دن کابینہ حلف اٹھا لے گی اور تمام محکموں میں بے شمار خالی آسامیاں نکل آئیں گی اس طرح ہم بجلی پٹرولیم گیس اور آٹے دال کا نرخ اور ان کی شرح نمو بھی بتا سکتے ہیں بلکہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کل کے نرخ کیا ہوں گے کیوں کہ نرخ ایک نشوونما یافتہ پیڑ کی طرح ہیں اور اپنے قدرتی معمول کے مطابق ان میں خودبخود پتوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، مطلب یہ کہ ہم پوری طرح مستند اور ثابت شدہ ماہر نجوم وغیرہ ہیں بلکہ یہ تو ہماری کسر نفسی ہے کہ ہم اخباروں میں یہ بڑے اشتہار دے کر عامل کامل بابا بنگالی پرتگالی اور سنیگالی نہیں بن رہے ہیں، لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کی حتمی تاریخ بتانے سے پہلے اس ناہنجار و نابکار کی تھوڑی سی گزشتہ تاریخ اور پیوستہ جغرافیہ بھی بیان کر دیں تو پیشین گوئی ذرا اور معتبر ہو جائے گی۔

یہ سیاہ رو سیاکار اور سیاہ فام کلنکی کلوٹی کلٹا ۔۔۔ دراصل اپنے والدین کی ان چاہی اولاد ہے جن کی اصل پسندیدہ اور لاڈلی بیٹی بجلی تھی جو چندے آفتاب اور چندے مہتاب تھی لیکن ابھی یہ دختر بلند اختر سن بلوغ کو پہنچ کر چراغ بھی نہیں بنی تھی اور اس کے رخ روشن سے والدین کا گھر پوری طرح منور بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک قطعی خلاف توقع اور والدین کے نہ چاہتے ہوئے اس کی ایک اور بہن پیدا ہوئی جو اپنی بڑی بہن کی بالکل الٹ تھی، ماں باپ کو اتنی بری لگی کہ وہ اسی وقت اس کا گلا گھونٹنے پر تیار ہوئے لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے یہ اڑ کر منڈیر پر اور پھر بجلی کے تار پر بیٹھ گئی بجلی کے تار پر اس کے بیٹھتے ہی چاروں طرف گھپ اندھیرا چھا گیا وہ دن اور آج کا دن یہ فتنہ کسی کے بھی قابو میں نہیں آیا اور مسلسل بڑی ہوتی گئی، پھیلتی گئی اور چھاتی چلی گئی ۔۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ پورے ملک کے اعصاب پر بیٹھ گئی، کارخانے، اندر خانے، باہر خانے، دوا خانے اور ایسا کوئی خانہ بچا ہی نہیں جس پر قبضہ کر کے اس نے اس کا خانہ نہ خراب کر رکھا ہو

کس کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش گئے
شراب سیخ پر ڈالی کباب شیشے میں

اب ایسی ھمہ گیر ایسی خوں خوار ایسی تباہ کن عفریت کے بارے میں میاں نواز شریف کیا کہہ سکتے ہیں، اگر کوئی کہہ سکتا ہے تو وہ ہم جیسے ماہرین نجوم عامل کامل ہی کہہ سکتا ہے اور وہی کہنے ہم جا رہے ہیں۔ حتمی تاریخ کے بارے میں جیسے نواز شریف میاں صاحب نہیں کہہ سکتے ویسے ہی ہم بھی ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتے کیوں کہ جو تاریخ اس کے خاتمے کے لیے طے ہوئی ہے اس تاریخ کا کسی کو بھی پتہ نہیں کہ مہ و سال کے حساب سے کب آئے گی۔ کتابوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اس دن کی بہت ساری نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں لیکن اصل مسئلہ کیلنڈر کے حساب سے تاریخ بتانے کا ہے اور وہ تاریخ ابھی پردہ غیب میں ہے، اگر کوئی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ تاریخ بارہ مہینوں میں سے کسی بھی مہینے کی یکم سے لے کر اکتیس تک ہو سکتی ہے دوسری یقینی بات یہ ہے کہ وہ دن ہفتے کے سات دنوں میں ایک دن یقیناً ہو گا۔

آپ سوچیں گے جب ہم نے اتنے بڑے عامل کامل پروفیسر ڈاکٹر ماہر نجوم ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو دوسرے لوگوں میں اور ہم میں فرق کیا ہوا یا صاف صاف یوں کہیے کہ ہم میں اور صاحب اقتدار میں کیا فرق ہوا، حتمی تاریخ وہ بھی نہیں بتا سکتے اور ہم بھی نہیں بتا سکتے، لیکن ایسا نہیں ہے ہم بتا سکتے ہیں اور بتائیں گے بھی لیکن اس سے پہلے کچھ اور باتوں کا جاننا ضروری ہے، تاریخ اور تحقیق کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کسی ہستی کے حالات اندھیرے میں ہوں اور لوڈ شیڈنگ تو نام ہی کم بخت اندھیرے کا ہے تو تاریخ میں اس کی کسی ہم عصر ہستی سے اس کا موازنہ کیا جائے اور اس کے زمانے اور واقعات کا اندازہ لگایا جائے۔

چنانچہ ہم بھی اس کم بخت لوڈ شیڈنگ کی تاریخ اور واقعات کا اندازہ اس کی بڑی اور اچھی والی بہن بجلی سے لگانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے آغاز و انجام سے اس کے آغاز و انجام کا اندازہ لگائیں گے، مس بجلی جس کی پیدائش اور آغاز کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں دختر نیک اختر تھی ۔۔۔ اس کے ساتھ ہوا یہ کہ پہلے ہمیشہ آتی رہتی پھر شباب پر ضعف کے آثار چھا گئے، تو دم بھر کو رک کر دم لیتی، پھر دم لینے کا یہ عرصہ بڑھتے بڑھتے گھنٹوں تک دراز ہو گیا۔

گھنٹوں سے بھی کام نہ چلا تو پہروں پر آ گئی پہروں سے پھر شب روز کا آرام کرنے لگی، دن کو آتی تو رات کو آرام کرتی رات کو کام کرتی تو دن کو تھکان دور کرتی، عمر بڑھتی رہی آخر بے چاری صرف گھنٹے دو گھنٹے کام کرتی تو دم پھول جاتا ہے گھنٹوں سے بھی گئی تو منٹوں پر آ گئی، چوبیس گھنٹے میں اب یہ معمول ہوا کہ چار گھنٹے چھ گھنٹے لیٹی رہتی تو دس پندرہ منٹ کے لیے مکھڑا دکھا جاتی، لیکن پھر اس کی بھی طاقت نہیں رہی، منٹوں کو سیکنڈوں میں بدل گئی، آج کل یہی سلسلہ ہے کچھ منٹوں کے لیے آتی ہے سانس قابو میں آتی ہے تو پھر منہ سر لپیٹ لیتی ہے۔

حکماء و اطباء نے کافی ٹیسٹ اور معائنے وغیرہ کر کے نبض دیکھ کر اور قارورہ چیک کرنے کے بعد قرار دیا ہے کہ بہت جلد یہ اپنی نانی یعنی آسمانی بجلی کی طرح ہو جائے گی، سال میں دو تین بار آسمانی بجلی کی طرح چند ثانیوں کے لیے چمکے گی وہ بھی صرف اس لیے کہ جس طرح آسمان پر کچھ الفاظ تحریر کرتی ہے ویسے ہی یہ بھی ''بلوں'' پر اپنے دستخط ثبت کرے گی، اسی موازنے سے اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ آپ کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا قطعی دن بتا سکیں اور وہ دن وہی دن ہے جسے دوسرا دن یا قیامت یا حشر وغیرہ بھی کہتے ہیں اسی دن کا ظہور ہی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا دن ہے۔