پاک چین تعلقات مضبوط بنانے کا اعادہ

چینی قیادت پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔


Editorial September 11, 2018
چینی قیادت پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان سے اتوار کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی' جس میں چین کی قیادت کی جانب سے نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش سے آگاہ کیا گیا' اس موقعے پر چینی وزیر خارجہ نے پاک چین تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی مثالی ہے' چینی قیادت پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کے ساتھ دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کیساتھ دوستی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

عمران خان نے چینی وزیر خارجہ کو سی پیک منصوبے میں بھرپورحمایت کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چین، پاکستان دوستی ہرآزمائش میں پوری اتری ہے، چین ہمارا بااعتماد دوست ہے، سی پیک منصوبے سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک میں روزگارکے مواقعے پیدا ہوں گے، چین کی ترقی دیگر ممالک ایک مثال ہے، وزیراعظم نے چینی وزیرخارجہ کوسی پیک منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمدکی یقین دہانی بھی کروائی۔

ملاقات کے موقعے پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کومزید بہتربنانے اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اور دوطرفہ امور، باہمی دلچسپی، عالمی اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیراعظم عمران خان سے سعودی عرب کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے بھی ملاقات کی اور انھیں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر سعودی قیادت کی جانب سے مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی وزیراطلاعات نے پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ سعودی قیادت کی جانب سے یکجہتی کا اظہارکیا۔

چین پاکستان کے باہمی تعلقات شروع ہی سے خوشگوار چلے آ رہے ہیں لیکن جب سے چین نے پاکستان میں سی پیک منصوبے کا آغاز کیا تب سے اس کے یہاں تجارتی و اقتصادی مفادات اور دلچسپی میں اضافہ ہو گیا' چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے' توانائی سمیت درجنوں ترقیاتی منصوبے اس کے تعاون سے بنائے جا رہے ہیں' تجارتی تعلقات کے علاوہ فوجی اور عسکری سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات ہیں' یہی وجہ ہے کہ چین داخلی اور خارجی سطح پر کسی بھی مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے معاملے پر جب بھارت اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا اور مولانا مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تو اس مرحلے پر چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

سابق حکومت نے بھی چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پاکستان میں سی پیک سمیت دیگر منصوبوں میں چین سے معاہدے کیے۔ عالمی سطح پر چین کی امریکا اور بھارت سے چپقلش چل رہی ہے لہٰذا امریکا چین کو نیچا دکھانے کے لیے بھارت کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے' اس پیچیدہ اور مشکل صورت حال کے تناظر میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو چین کے مفادات کا بھرپور تحفظ کر رہا ہے یہاں تک کہ تائیوان کے مسئلے پر بھی پاکستان نے ہمیشہ چین کا ساتھ دیا ہے۔

پاکستان کی نئی حکومت جسے اس وقت متعدد چیلنجز بالخصوص معاشی بحران کا سامنا ہے' اس کی بھی خواہش ہے کہ ان چیلنجز اور بحران سے نمٹنے کے لیے وہ چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے۔ پاکستان کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے زراعت' صنعت سمیت متعدد شعبوں کو ترقی دینا ہو گی۔

اس وقت ملک تجارتی خسارے سے بھی دوچارہے اس کی برآمدات درآمدات کے مقابلے میں کئی گنا کم ہو چکی ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے توانائی اور پانی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی آگے بڑھنے کے لیے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک منصوبے سے جہاں چین کو خاطر خواہ تجارتی فوائد حاصل ہوں گے وہاں پاکستان کے لیے بھی یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو گا' معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ روز گار کے وسیع مواقعے پیدا ہوں گے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک سمیت دیگر ممالک سے تعلقات میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اب ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی مضبوط اور موثر بنانا ہو گی۔

پاکستان سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو پٹرولیم' لائیو اسٹاک' توانائی اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت سمیت دوطرفہ تجارت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دے رہا جو خوش آئند امر ہے لیکن دوطرفہ تجارت میں توازن قائم رکھنا انتہائی ناگزیر ہے ورنہ غیرمتوازن صورت حال سے پاکستان کے معاشی شعبے کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔