بلوچستان میں دہشت گردی

بلوچستان میں امن کی بحالی انتہائی اہم ترین ٹاسک ہے،کیونکہ امن و امان کی بحالی سے صوبہ اور ملک ترقی کرے گا


Editorial September 11, 2018
بلوچستان میں امن کی بحالی انتہائی اہم ترین ٹاسک ہے،کیونکہ امن و امان کی بحالی سے صوبہ اور ملک ترقی کرے گا۔ فوٹو: فائل

ملک میں دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن رد الفساد کے تحت پاک فوج نے بلوچستان کے ضلع آواران میں آپریشن کرتے ہوئے چار دہشت گرد ہلاک کردیئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ بلوچستان ایک طویل عرصے سے شورش کا شکار صوبہ ہے، شورش تہہ در تہہ ہے جہاں ہماری سیکورٹی فورسز، سیاسی رہنماؤں اور عوام نے جان ومالی بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ گوکہ کچھ عرصے کے لیے صوبے میں امن وامان کی صورتحال میں خاصی بہتری آئی تھی لیکن اب انتہا پسند عناصر ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔

بلوچستان پاکستان کی ترقی کا گیٹ وے ہے، یہ ترقی ان دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی جو نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے اور خوشحال کا سفر طے کرے۔ رقبے کے لحاظ سے سب بڑا صوبہ بلوچستان قدرت کے عطا کردہ بے پناہ خزانوں کا مالک ہے، یہ زیر زمین خزانے باہر آجائیں تو پاکستان کی معیشت مستحکم بنیادوں پرکھڑی ہوسکتی ہے۔گوادر بندرگاہ بننے اور صوبے میں اعلیٰ معیارکی سڑکوں کی تعمیر سے ترقی کی راہ کے سفر کا آغاز تو ہوچکا ہے لیکن بہت سے مفاد پرست عناصر اس ترقی وخوشحالی کے سفر میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں ۔

صوبے میں امن وامان کی بحالی سیکورٹی فورسز اور حکومتی کاوشیں لائق تحسین ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ کہیں نہ کہیں سیکیورٹی لپیس کی وجہ سے شرپسند عناصر اپنے مذموم کارروائیاں کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں جیسے آئی ایس پی آر کے مطابق اس واقعے میں ہلاک دہشتگردوں کا تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے تھا اور وہ بلوچستان کے علاقے مشکئی میں پاک فوج کے قافلے پر حملے پر ملوث تھے۔ اس حملے میں پاک فوج پر پانچ جوان شہید ہوئے تھے۔

یہ تو درست ہے کہ دہشتگرد ہٹ اینڈ رن اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے جیسے بزدلانہ کارروائیاں کرتے ہیں لیکن ان کی روک تھام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ نیشنل ایکشن پلان پوری طرح عمل درآمد ہوسکے۔

بلوچستان میں امن کی بحالی انتہائی اہم ترین ٹاسک ہے،کیونکہ امن و امان کی بحالی سے صوبہ اور ملک ترقی کرے گا اور ان منصوبوں پرکام آسان ہوسکے گا، جن پر ہمسایہ ملک چین عمل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ سیکورٹی فورسز بھرپور انداز میں کرمنل عناصر اور دہشتگردوں کیخلاف نبرد آزما ہیں اور انھوں نے اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے تاہم اول وآخر ضرور اس بات کی ہے کہ سی پیک کے تمام منصوبوں کے ثمرات بلوچستان کے مقامی افراد کو منتقل ہونے چاہئیں تاکہ ان کی زندگی میں بھی تبدیلی آسکے اور انھیں بہتر روزگار کے مواقعے میسر آئیں۔