پارلیمنٹیرینز اور سادگی کلچر

عوامی نمائندوں کو سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہوں اور مراعات سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔


Editorial September 11, 2018
عوامی نمائندوں کو سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہوں اور مراعات سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

تحریک انصاف کی حکومت سادگی کے کلچر کو فروغ دینے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے اعلان کر رہی ہے'وزیراعظم عمران خان اپنی انتخابی مہم میں بھی سرکاری اخراجات میں کمی اور سادگی اختیار کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں اور اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔

یہ بڑی اچھی بات ہے اور عوام ان باتوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں تاہم عوام کے منتخب نمائندوں یعنی پارلیمنٹیرینز کے حوالے سے تاحال کوئی مثال سامنے نہیں آئی البتہ ایک اخباری خبر میں بتایا گیا ہے کہ نئی حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز کی تزئین و آرائش کا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ کی اقامت گاہوں میں نیا فرنیچر فراہم کیا جائے گا۔ تعمیر و مرمت کے ضروری کام کیے جائیں گے۔ قالین سمیت دیگر سامان بھی نیا لگایا جائے گا۔ منصوبہ ساڑھے گیارہ کروڑ لاگت سے مکمل ہوگا۔ اعلیٰ سطح پر اس کی منظوری دیدی گئی۔

پاکستان کو جس مالی اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے' اس کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہئے کہ عوامی نمائندے سادگی کلچر کے فروغ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں' عوامی نمائندوں کو سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہوں اور مراعات سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ پارلیمنٹیرینز کی بھاری اکثریت خوشحال ہے اور یہ اتنی مالی سکت رکھتے ہیں کہ اپنے اپنے شہروں یا قصبوں سے اسلام آباد، کراچی ، لاہور، پشاور یا کوئٹہ تک ذاتی خرچ سے سفر کرسکتے ہیں۔ اکثر پارلیمنٹیرینز کی بڑے شہروں میں ذاتی رہائش گاہیں بھی ہیں۔

ایسے پارلیمنٹیرینز کو سرکاری رہائش گاہوں میں رہنے کے بجائے اپنی رہائش گاہوں کا رہائش کا انتظام کرنا چاہیے ' اس طریقے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ہو گی اور پارلیمنٹیرینز کا وقار بھی بلند ہو گا۔ اس سے بیوروکریسی پر بھی دباؤآئے گا اور وہ اپنے غیرضروری اخراجات میں کمی کرنے پر مجبور ہوجائیگی۔پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کی اولین ذمے داری رولنگ کلاس پر ہی عائد ہوتی ہے اور اسے ہی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔