گیس قیمتوں میں اضافہ موخر اہم اقدام

مسائل کی چکی میں پستے ہوئے عوام چاہتے ہیں انھیں جلد سے جلد ریلیف ملے ، لیکن مسائل بے شمار ہیں۔


Editorial September 12, 2018
مسائل کی چکی میں پستے ہوئے عوام چاہتے ہیں انھیں جلد سے جلد ریلیف ملے ، لیکن مسائل بے شمار ہیں۔ فوٹو: فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی)نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کو موخرکرتے ہوئے حتمی فیصلہ وزیر اعظم پر چھوڑ دیا ، ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمدکرنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں ایل پی جی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میںکریک ڈائون شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے صوبوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی دراصل ملک کی معاشی اور اقتصادی ترجیحات کا تعین کرتی ہے اور اس کے فیصلوں کے اثرات مثبت یا منفی ہوتے ہیں جو براہ راست نظام اور عوام پر مرتب ہوتے ہیں ۔ گوکہ عوامی وسیاسی احتجاج پر گیس کے نرخوں میں یکدم چالیس فیصد اضافہ موخر کردیا گیا لیکن گیس پر سبسڈی کے موجودہ نظام پر نظرثانی کرنے اور سبسڈی کا نیا نظام متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ مل کر تفصیلی تبادلہ خیال کا پلان تیار کیا گیا ہے نوید یہ سنائی گئی ہے کہ اس نئے نظام میں وزیراعظم کے ویژن کے مطابق غریب طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا البتہ امیر طبقے پر بوجھ ڈالاجائے گا۔

سوال یہ ہے کہ امیر اور صنعت کار اپنے اوپر لگنے والے ٹیکسوں کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کرنے کا ماہر ہے اس کا تدارک کیسے ہوگا ۔اجلاس میں ای سی سی نے کھاد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک لاکھ ٹن یوریاکھاد درآمد کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کھاد فیکٹریوں کو پچاس فیصد مقامی گیس اور پچاس فیصد ایل این جی فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں تمام کھاد فیکٹریاں پوری صلاحیت کے مطابق کھاد پیدا کریں گی ۔

ہمارے ملک کا مظلوم ترین اور نظر انداز کیا جانے والا طبقہ کسان ہیں جو ماضی کی تمام حکومتیں نظر انداز کرتی آرہی ہیں اسی لیے زراعت کا شعبہ شدید ترین مشکلات کا شکار ہوگیا ہے لہٰذا حکومت کا یہ کہنا کہ کسانوں پر اضافی بوجھ منتقل نہیںکیا جائے گا اور اضافی اخراجات بوجھ حکومت برداشت کرے گی انتہائی درست فیصلہ قرار دیا جاسکتاہے ۔

ملک بھر میں ناجائز منافع خوروں نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ کردیا ہے ، اجلاس میں اس اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ ایل پی جی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈائون شروع کرنے کی ہدایت بھی احسن عمل ہے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام لوٹ مار سے بچ سکیں ، نئی حکومت سے عوامی توقعات بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔

مسائل کی چکی میں پستے ہوئے عوام چاہتے ہیں انھیں جلد سے جلد ریلیف ملے ، لیکن مسائل بے شمار ہیں ، اقتصادی اور معاشی صورتحال ابتر ہے ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی موجود ہے ، اس کو سنبھالنے اور درست کرنے میں وقت تو لگے گا لیکن ایسے فیصلے کی جانے چاہئیں جو عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالیں تاکہ انھیں تبدیلی آنے کا خوشگوار احساس ہو۔