بھوک وافلاس کی درد انگیز عالمی رپورٹ

بھوک سے پاک دنیا کے مقاصد کو پانے کے لیے منظم اقدامات اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔


Editorial September 13, 2018
بھوک سے پاک دنیا کے مقاصد کو پانے کے لیے منظم اقدامات اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی۔اس معروف شعری حوالہ سے دنیا آج بھی بھوک وافلاس کے خطرات سے محفوظ نہیں۔اقوام متحدہ کی فوڈ سیکیورٹی ، خوراک کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہ کاریوں کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا میں 8 کروڑ20 لاکھ افراد بھوک اور غذائی کمی کا شکار رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی خوراک کی سلامتی اور موجودہ صورتحال پر 2018 کی سالانہ رپورٹ میں دردانگیز حقائق بیان کیے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی عدم فراہمی کے پیچیدہ معاملات کی بہتری کے لیے اقدامات سست روی کا شکار ہیں، جب کہ صورتحال سے مفلوک الحال بچے اور جوان یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

اکیسویں صدی کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے پناہ ایجادات و ترقی کے باوجود غریب طبقات کو کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں، اس المناک صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال سے بھوک وافلاس کی شرح بڑھی ہے، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گول پروگرام (ایس ڈی جی) کے تحت 2030ء تک بھوک مٹاؤ کوششوں کے مقاصد کا حصول ناگزیر ہے۔

عالمی برادری کے فوڈ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال جنوبی امریکا سمیت افریقہ کے بعض علاقوں میں اندوہ ناک ہے، جب کہ ایشیا میں بھی غذائی کمی کا رجحان تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، ادھر موسمیاتی تبدیلیوں سے بارش کے سسٹم متاثر ہوئے ہیں، زرعی موسم بھی بارشوں کی کمی سے قحط کا پیغام لائے ہیں۔

اگر مذکورہ حقائق کا موازنہ ملکی صورتحال اور غربت کے خاتمہ کے اقدامات سے کیا جائے تو کئی الم ناک پہلو سامنے آتے ہیں، فوڈ سیکیورٹی سسٹم ہمارے ہاں بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کی ضرورت عالمی سطح پر محسوس کی جاتی ہے، اسی طرح موسموں کی شدت اورتھر میں خشک سالی عروج پر ہے، بھوک و بد حالی کے مصائب میں نئے موسمیاتی عوامل بنیادی اسباب مہیا کرتے ہیں۔

رپورٹ بلاشبہ الارمنگ ہے، جس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے معاشی کساد بازاری عود کر آئی ہے، لوگوں کوگار تباہ ہوئے اور زرعی سہولتوں اور ثمرات سے افلاس کے مارے ہوئے لوگ مستفید نہیں ہوتے، رپورٹ میں بھوک سے پاک دنیا کے مقاصد کو پانے کے لیے منظم اقدامات اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی اور مقامی سطح پر فوڈ سیکیورٹی سسٹم کو مستحکم کر کے ہی لوگوں کو بھوک سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔