اغوا کی بڑھتی وارداتیں اور داعش کارکنان کی گرفتاریاں

ملک میں داعش کارکنوں کا فعال ہونا اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔


Editorial September 14, 2018
ملک میں داعش کارکنوں کا فعال ہونا اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ فوٹو:فائل

اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سی پی ایل سی نے کراچی اور بلوچستان میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران داعش کے مبینہ تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ملزم اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ انھوں نے کراچی سے اغوا کیے گئے شہری کی رہائی کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی وصول کی، جو کہ برآمد کر لی گئی۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گرد رقم اکٹھی کرکے افغانستان میں موجود داعش کے نیٹ ورک کو بھیجتے تھے۔ ملک میں داعش کارکنوں کا فعال ہونا اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک کے طول و عرض میں نہ صرف اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ نوجوانوں اور بچوں کے غائب ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نوعمر بچوں کے اغوا کے پیچھے کوئی مذمومانہ سازش ہے، ان بچوں کا برین واش کرکے دہشت گردی اور خودکش حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں کیونکہ اس سے پیشتر القاعدہ، داعش اور دیگر شدت پسند جماعتوں کی جانب سے ایسے ہی مظاہر سامنے آچکے ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں جس داخلی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا اس میں کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش کو پاکستان کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا، سیکیورٹی پالیسی میں انکشاف کیا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کئی شاخیں اور داعش کے دہشت گرد شام اور عراق سے واپس آ کر افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔

حالیہ وارداتوں میں داعش کارکنوں کا ملوث ہونا اس خدشہ کی تصدیق کررہا ہے کہ ہماری کمزوری اور لاپرواہی نے دشمن کو متحرک اور منظم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد جیسی کامیابیوں کے بعد شرپسندوں کو سنبھلنے کا بالکل بھی موقع نہیں دینا چاہیے تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اغوا کی وارداتوں کا اچانک بڑھ جانا بھی باعث تشویش ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جس طرح دن دیہاڑے اغوا کی وارداتیں جاری ہیں وہ مجرموں کی بے خوفی کا پتہ دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہیں کہ کس طرح کار سوار اسکول کے بچوں کو شاہراہوں سے اغوا کررہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتی زعما کو فوری طور پر اغوا کی وارداتوں میں ملوث عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف فعال ہونا ہوگا۔