منی پاکستان میں امن کی اشد ضرورت

اس بار حکومت نے بدامنی کے عفریت کا سر نہ کچلا تو معاشرہ انارکی کی نذر ہو سکتا ہے۔


Editorial May 31, 2013
امید کی جانی چاہیے کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں امن و امان کا قیام سندھ حکومت کا اولین ایجنڈا ٹھہرے گا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: سید قائم علی شاہ کثرت رائے سے تیسری بار وزیر اعلیٰ سندھ منتخب ہو گئے ہیں، سندھ میں 5 ویں مرتبہ پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صوبے کے عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ آغا سراج درانی کواسپیکر، شہلا رضا کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کر لیاگیا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں رائے شماری کے نتیجے میں سید قائم علی شاہ کو 86 ووٹ ملے، ایم کیو ایم کے امیدوار سید سرداراحمد نے 48 اور 10 جماعتی اتحاد کے امیدوار امتیاز شیخ نے 18 ووٹ حاصل کیے۔یوں وزیراعلیٰ کے انتخاب کا جمہوری عمل خوش اسلوبی سے عمل میں آگیا۔ اس سے قبل اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا جس کے لیے رائے شماری میں کل 155 ارکان نے حصہ لیا۔ پیپلز پارٹی کے آغا سراج درانی 87 ووٹ لے کر سندھ اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوئے۔ رات گئے سندھ حکومت نے نگراں صوبائی حکومت کو تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بلاشبہ بڑے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہو گا، در حقیقت اس سارے سسٹم اور کراچی کی مخدوش صورتحال کو جہاں وہ اسے چھوڑ گئے تھے پھر سے جوڑنے پر مامور ہو گئے ہیں، اور ان کے ناقدین بھی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ انھیں ان مسائل کے حل کے لیے اپنا طریقہ کار بدلنا ہو گا۔ سید قائم علی شاہ آزمودہ کار سیاستدان ہیں اور انھیں کراچی اور اندرون سندھ کے مسائل کا بخوبی علم ہے۔

یوں کراچی اور اندرون سندھ کے عوام کو امید ہے کہ اس بار سندھ حکومت صوبے کو درپیش مسائل حل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔ اصولی طور پر عوام کے مسائل حل کرنا ہی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔

کراچی میں بدترین قتل و غارت کا یہ عالم رہا کہ 5 سالہ دورانیے میں 5 ہزار افراد ٹارگٹ کلنگ اور ہلاکتوں کے مختلف اسباب کے باعث جمہوری عمل کے لیے سوالیہ نشان بن گئے۔ پانچ برس میں اتنی ہلاکتیں کوئی معمولی بات نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ارباب اختیار اعدادوشمار سے آگاہ نہ ہوں اور وہ حالات کی سنگینی کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔

اس بار حکومت نے بدامنی کے عفریت کا سر نہ کچلا تو معاشرہ انارکی کی نذر ہو سکتا ہے۔ یہ ''ڈو آر ڈائی'' کا مرحلہ ہے۔ اس وقت متحدہ قومی موومنٹ وفاق اورصوبہ سندھ میں اپوزیشن نشستوں پر آ گئی ہے جب کہ وزیر اعلیٰ اس مرتبہ منتخب ہونے کے بعد نائن زیرو کے بجائے جمعرات کی شب گورنر ہاؤس میں وزارت اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد لیاری پہنچ گئے، اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی ۔ یہ حالات کا جبر نہیں سیاسی شعور کی بیداری اور تبدیلیوں کی خاموش دھمک ہے۔ کراچی کے سیاسی مزاج نے نئی کروٹ لی ہے۔

سیاست دان اس کا ادراک کریں اور سیاسی محاذ آرائی ترک کر کے اشتراک اور پر امن بقائے باہمی کے ماحول کو سازگار بنائیں۔ ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی و جمہوری قوتوں کے اشتراک عمل اور مفاہمت و تعاون کے بغیر کراچی کی صورتحال کو سنبھالنا ایک ٹیسٹ کیس ہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں امن و امان کا قیام سندھ حکومت کا اولین ایجنڈا ٹھہرے گا تا کہ مافیائوں سے نمٹتے ہوئے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی طرف بھرپور توجہ دی جا سکے جب کہ بجلی کی فراہمی، غربت و بیروزگاری کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدامات اور موثر منصوبہ بندی سے دہشت گردی، شورش، بدامنی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور فرقہ وارانہ کشیدگی اور نو گو ایریاز سے نجات دلانے کے لیے کامیاب حکمت عملی وضع کی جائے۔

امن ہو گا تو سندھ انتظامیہ نتائج دے سکے گی۔ یہ دردناک حقیقت ہے کہ بدامنی نے کراچی سمیت سندھ کے تقریباً پورے سماجی، معاشی اور اعصابی شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ عوام کو مایوسی، خوف و ہراس اور مجرمانہ گروہوںکے چنگل سے نکالنے کے لیے فولادی عزائم کے ساتھ ایکشن لینا ہو گا۔ کراچی میں قانون شکنی اور لاقانونیت کا ایک ہولناک کلچر خاصا ترقی پا چکا ہے جس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر پولیس اور رینجرز کو کارکردگی کا نیا معیار قائم کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ ان کے بارے میں انتہائی سخت ریمارکس دے چکی ہے اور بدامنی کا مقدمہ ابھی اپنے منطقی نتائج تک پہنچنے والا ہے۔

چنانچہ شہرکے مختلف علاقوں میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج کے پیش نظر ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے اپوزیشن نشستوں پر بیٹھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ کی تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو کراچی میں امن کے قیام، مفاہمت، مصالحت، صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو اپنا سیاسی نصب العین بنانا چاہیے۔ کراچی اور اندرون سندھ کے عوام کو روزگار اور زندگی کی ضمانت، لوڈ شیڈنگ، بجلی کے ہوشربا بلوں اور مہنگائی سے نجات دلانا جمہوریت کا ہدف ہونا چاہیے۔ سندھ کے دیہی علاقے پسماندگی کا شکار ہیں، انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ ہاریوں کا معیار زندگی بلند کرنے، پرانی رسموں کو دفن کرنے، نجی جیلوں سمیت جاگیردارانہ اور وڈیرا شاہی کلچر کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں