خوشحال خان ایکسپریس کو حادثہ

متعدد مقامات پر عشروں سے بچھے ہوئے ریلوے ٹریک خستہ حال ہونے کے باعث محکمے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔


Editorial September 18, 2018
متعدد مقامات پر عشروں سے بچھے ہوئے ریلوے ٹریک خستہ حال ہونے کے باعث محکمے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ فوٹو:آصف محمود

کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان ایکسپریس ٹرین اتوار کو اٹک اور میانوالی کے درمیان مسان برج اور مکھڈ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی جس سے اس کا انجن اور 8بوگیاں الٹنے سے 20مسافر زخمی ہو گئے تاہم ریسکیو1122 ذرایع کے مطابق اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا' مسان ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے زمینی راستہ نہ ہونے کے باعث ریسکیو کو امدادی کاموں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ علاقے کو دیگر مقامات سے ملانے والا سواں پل بھی ٹوٹا ہوا ہے جس کے باعث ہیوی مشینری پہنچانے میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

ٹرین کا سفر سڑک کی نسبت محفوظ تصور ہونے کے سبب مسافروں کی ترجیح رہتا ہے لیکن بسااوقات یہ بھی کسی نہ کسی حادثے کی نذر ہو جاتاہے' ٹرین میں کیونکہ مسافروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے لہٰذا کسی حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کو نقصان بھی زیادہ پہنچتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے ٹرین حادثات پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن ذرایع کا استعمال کیا ، اسے جدید سے جدید تر اور محفوظ بنانے کی بھرپور کوشش کی تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس معاملات چل رہے ہیں' متعدد مقامات پر عشروں سے بچھے ہوئے ریلوے ٹریک خستہ حال ہونے کے باعث محکمے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں' بعض مقامات پر ریلوے پل مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے ٹرین حادثات کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اگرچہ حالیہ رخصت ہونے والی حکومت نے ریلوے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور بہت سے انقلابی اقدامات بھی کیے لیکن اب بھی صورت حال اس طرح بہتر نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔

اب نئی آنے والی حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں سمیت ریلوے کے نظام کو بھی جدید بنانے کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے اور ریلوے کے نظام میں جو نقائص موجود ہیں اسے دور کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ تبدیلی حقیقی معنوں میں آ گئی ہے۔

بھارتی ریلوے کی مثال سامنے ہے جس کے ذمے دار حکومتی حکام نے ایک خستہ حال اور بگڑے ہوئے ریلوے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خلوص نیت سے کام کیا جس کے ثمرات سے آج بھارتی عوام مستفیض ہو ر ہے ہیں۔