افغانوں اور بنگالیوں کے لیے شناختی کارڈز کی سہولت

وزیراعظم کا بیان بادی النظر میں انسانی محرومی، بیروزگاری اور بے خانمائی سے پیدا شدہ سماجی و معاشی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔


Editorial September 18, 2018
وزیراعظم کا بیان بادی النظر میں انسانی محرومی، بیروزگاری اور بے خانمائی سے پیدا شدہ سماجی و معاشی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بنگالیوں اور افغانوںکے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوںکو شناختی کارڈ دلوائیں گے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اسٹریٹ کرائمز کی بڑی وجہ ہے، کراچی میں انڈرکلاس لوگ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بنگلہ دیش سے اور افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے شناختی کارڈز نہیں بنائے جاتے جس سے انھیں ملازمتیں نہیں ملتیں اور وہ جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

وزیراعظم کا بیان بادی النظر میں انسانی محرومی، بیروزگاری اور بے خانمائی سے پیدا شدہ سماجی و معاشی مسائل سے جڑا ہوا ہے، تاہم شہر قائد کے درد انگیز پس منظر اور سیاق وسباق میں تشنہ طلب ہے، آئین و قانون کے مطابق ہر پاکستانی کو جو بلوغت کی عمر کو پہنچ چکا ہو نہ صرف پاسپورٹ و شناختی کارڈ کا نہ صرف استحقاق رکھتا ہے بلکہ اسے تمام حقوق ملنے چاہئیں، مگر دوسری طرف مسئلہ کی حساسیت کسی پینڈورا باکس کے کھلنے سے کم نہیں، اس ایشو کو ووٹ بینک بڑھانے کے لیے استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہوگا کیونکہ شہر قائد سمیت ملک بھر میں دہشت گردی، قوم پرستی، اسٹریٹ کرائمز، منظم مافیائوں اور فرقہ واریت کی آڑ میں انسانوں کا خون جس بے رحمی سے بہایا گیا، اس نے پچھلے چار عشروں کی جمہوری حکومتوں کی بنیادیں تک ہلادی تھیں۔

امن کی کرن کراچی کے شہریوں نے رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں دیکھی لیکن جرائم کے بیشتر راستے پولیس، رینجرز اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے ریکارڈ کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کی طرف جاتے تھے، افغانستان پر روسی جارحیت کے بعد لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور کراچی میں میں آباد ہوئے، ان کے کیمپوں میں رفتہ رفتہ جرائم پیشہ عناصر نے اپنے نشیمن بنالیے، جرائم کی وارداتوں کے اندوہناک بیانیے جنم لیتے رہے،کراچی بدامنی کا سب سے پہلا ٹارگٹ بنا، یہاں لسانی جھگڑے شروع ہوئے، جرائم پیشہ گروہوں کو سر اٹھانے کا موقع ملا، القاعدہ کے عرب جہادی عناصر آئے، اب داعش کا خطرہ ہے، اور ساتھ ہی اسٹریٹ کرائمز نے کنکریٹ کے اس جنگل کو دنیا کا خطرناک شہر بنادیا۔ پھر طالبانی گروہوں اور مذہبی انتہاپسند عناصر کی قبضہ گیری کی کشمکش نے ملکی صورتحال میں شدت پیدا کی۔

حقیقت یہ ہے کہ افغان مہاجروں کی وطن واپسی حکومت اور افغان حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کا اہم ترین ایجنڈا ہے، افغان پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی کے حتمی پروگرام میں توسیع بلاجواز تھی، جرائم کی وارداتوں میں خود افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں نے شکایت کی کہ افغانستان سے آکر جرائم پیشہ اور انتہاپسند عناصر مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ افغانیوں اور بنگالیوں کے علاوہ افریقی، وسط ایشیائی ریاستوں کے باشندے، عرب، برمی، ایرانی اور دیگر غیر ملکی تارکین جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں وہ مجرمانہ گروہوں کے یرغمال بنے رہے، اسٹریٹ کرمنلز نے اسٹریٹ چلڈرنز تک کو استعمال کیا جو مختلف وارداتوں میں پکڑے بھی گئے۔

کراچی میں ان دنوں اسٹریٹ کرائم کی لرزہ خیز وارداتیں ہورہی ہیں، پولیس اور رینجرز تک بے بس ہیں، بچوں سے زیادتی اور دن دہاڑے اغوا کی وارداتوں سے مائوں کے جگر چھلنی ہوگئے ہیں۔ ملک میں بلاشبہ امن بحال ہوا ہے، دہشتگردی کی کمر ٹوٹ چکی ہے مگر بہیمانہ جرائم، غیر قانونی اسلحہ تک رسائی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کا جو جہنم سلگتا رہا اس کی آگ ابھی بجھانا باقی ہے۔ دہشتگردی اور اسٹریٹ کرائم کے درمیان لکیر مٹ چکی، ہر قسم کے جرائم کا بازار سجا ہوا ہے، پولیس کے اندر کالی بھیڑوں کی تطہیر صوبائی حکومتوں کے لیے چیلنجنگ ٹاسک ہے، جرائم کے ارتکاب میں تارکین وطن کے ملوث ہونے پر سرکاری اداروں اور این جی اوز کی رپورٹوں کے انبار لگے ہیں۔

نئی حکومت افغانیوں اور بنگالیوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنانے کا اعلان کرنے سے پہلے اس بات کا بھی جائزہ لے کہ جو لاکھوں مقامی لوگ ہیں وہ بھی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے کیوں دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ کراچی کے مخصوص اور ملکی سماجی و اقتصادی صورتحال کے عمومی تناظر میں وزیراعظم کو اپنے بیان کی حساسیت پر از سر نو نظر ڈالنی چاہیے، محصورین پاکستان نے پھر کیا قصور کیا ہے، وہ بھی کل اپنا دکھڑا سنانے سڑکوں پر آئیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو لوگ یہاںکئی دہائیوں سے موجود ہیں اور ان کے بچے پیدا ہوئے اور بڑے ہوگئے انھیں شناختی کارڈ جاری کیے جائیں، بنگالی چالیس سال سے پاکستان میں مقیم ہیں یہ بھی انسان ہیں اور ان کے حقوق ہیں۔ تاہم وزیراعظم دیگر پاکستانیوں کے حقوق کی مسلسل پامالی کا بھی خیال کریں، جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، مقامیت کے اصول کو نظرانداز نہ کریں۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے افغان اور بنگالی مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کے اعلان کو مسترد کیا ہے، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے عمران خان کے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینے کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ غیر ملکیوں کو پاکستانی شہریت دینے سے مسائل پیدا ہوںگے، لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ کئی سال سے برداشت کررہے ہیں، عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان مہاجرین کی مدد کرتا آیا ہے، غیر ملکیوں کو شہریت نہیں بلکہ ان کی رجسٹریشن کی جائے اور انھیں جلداز جلد ان کے آبائی وطن روانہ کرنے کے انتظامات کیے جائیں، اس سلسلے میں افغانستان کی حکومت، بنگلہ دیش کی حکومت اور عالمی ادارہ برائے مہاجرین سے بات کی جائے تاکہ پاکستان میں مقیم مہاجرین اور دیگر قومیتوں کے غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی وطن روانہ کیا جاسکے۔