تمباکو نوشی سے ترقی پذیر ممالک میں زیادہ لوگ مر رہے ہیں ماہرین طب

تمباکوکےضمنی اثرات میں مردوں اورعورتوں میں بانجھ پن بڑھ رہاہے،نوجوان کم عمری میں سگریٹ نوشی شروع کردیتےہیں،ڈاکٹرجاوید.


Staff Reporter June 02, 2013
دنیا کے 1ارب 20 کر وڑ افراد تمباکونوش ہیں،ہرسال تمباکونوشی سے 50 لاکھ افراد مرتے ہیں،فالج کے حملے کا خطرہ دگنا ہوجاتا ہے،ڈاکٹر علی فوٹو : فائل

KARACHI: تمباکونوشی کے نتیجے میں80 فیصد اموات ترقی پذیرممالک میں ہورہی ہیں،عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق یہ اموات 2030 تک 8 ملین سالانہ تک پہنچ جائیں گی ۔

ہر سال40 فیصد افراد تمباکو نوشی کے استعمال کی وجہ سے کینسر اور پھیپھڑوں جیسے امراض میں مبتلا ہو کرموت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے30 سے40 سال کے افراد جگر اوردل کے عارضے میں مبتلاہوکر موت کاشکار ہوتے ہیں،پاکستان کے شعبہ صحت پر تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریاں مزید بوجھ کا سبب بن رہی ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسداد تمباکونوشی کے عالمی دن کے موقع پر آغا خان یونیورسٹی میں سیمینار سے خطاب میں ماہرین طب نے اظہار خیال کیا،پلمونولوجسٹ ڈاکٹر جاوید خان نے کہاکہ پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت بہت کم عمری سے ہی سگریٹ نوشی کا آغاز کردیتی ہے، یومیہ 1200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔

جس کی وجہ سے پاکستان کے شعبہ صحت اور معیشت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،بدقسمتی سے پاکستان نے عالمی ادارہ صحت سے تمباکونوشی کے خلاف کیے جانے والے معاہدے ٹوبیکو کنٹرول پر جون2004 میںدستخط کیے تھے لیکن پاکستان میں اس معاہدے پر عملدرآمدنہ ہونے کے برابر ہے،اس سال ترک تمباکو نوشی کے عالمی دن کا موضوع ہے''تمباکو نوشی کی تشہیر'' ترغیب اور تعاون پر پابندی کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ ایک سگریٹ جلنے سے تقریباً 4 ہزار 700 مضر صحت زہریلے کیمیکل خارج ہوتے ہیں۔



ان کے مضر اثرات سے کینسر، شریانوں کی بیماریاں، دماغی امراض ، پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے دائمی امراض اور ایمفیسیما (دم گھٹنا) جیسے امراض لاحق ہوسکتے ہیں،تمباکو نوشی کے دیگر ضمنی اثرات میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ پن، حمل سے متعلق مسائل، گردوں کی خرابی اور جراثیمی بیماریوں کے لیے مدافعت میںکمی شامل ہیں،پلمونولوجسٹ ڈاکٹر علی زبیری نے کہا کہ سگریٹ نوش افراد میں پھیپھڑوںکے کینسر سے اموات کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ ہوتا ہے، دل اور شریانوں کی بیماری کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں 2 سے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

فالج کے حملے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کے دائمی مرض کے باعث ہلاکت کا خطرہ عام افراد کی نسبت10 گنا زیادہ ہوتا ہے، دریں اثنا تمبا کونوشی کے عالمی دن کے حوالے سے ڈاکٹر سید مبین اختر نے کہا کہ دنیا کی 6 ارب 44 کرو ڑکی آبادی میں ایک ارب 20 کر وڑ افراد تمباکونوشی کر تے ہیں جبکہ 50 ارب رو پے اس پرضا ئع کردیے جا تے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ڈا کٹر سید مبین اختر نے کہاکہ غر یب مما لک میں سگر یٹ نو شی اور پان میں تمبا کوکا رحجان زیادہ ہے ان میں بنگلہ دیش، نیپا ل ، پا کستان اور بھا رت شا مل ہے جبکہ پا کستان میں 2003 میں قا نون جا ری کیاگیا تھا کہ 500 گزکے حدودکے کسی بھی تعلیمی ادارے میں سگر یٹ نو شی پر پا بندی ہوگی تا ہم اس قا نون پرتاحا ل عملدرآمد نہیں ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ سگر یٹ نو شی کے خلا ف شعوروآگہی کی مو ثرمہم چلا ئی جا ئے،ہرسال 50 لاکھ افراد تمباکونوشی سے مرجاتے ہیں۔

مقبول خبریں