دھونی کی کاروباری سرگرمیوں پر انگلیاں اٹھنے لگیں

اسپورٹس مارکیٹنگ کمپنی میں شراکت کو مفادات کا ٹکرائو قرار دے دیا گیا.


Sports Desk June 04, 2013
فرم سے زیر معاہدہ پلیئرزکو فائدہ پہنچانے کا الزام، اب شیئرہولڈر نہیں ہیں، کمپنی فوٹو : فائل

بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی کی کاروباری سرگرمیوں پر انگلیاں اٹھنے لگیں، اسپورٹس مارکیٹنگ کمپنی میں شراکت کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دے دیا گیا۔

فرم سے زیر معاہدہ کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام بھی سامنے آنے لگا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا میں انکشاف کیا گیاکہ مہندرا سنگھ دھونی کے رہتی اسپورٹس میں 15 فیصد ملکیتی شیئرز ہیں،انھوں نے 2010 میں اس کے ساتھ 210 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا تھا، یہ اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی رویندرا جڈیجا، پراگیان اوجھا اور سریش رائنا کے کمرشل معاملات کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس سے ردرا پرتاپ سنگھ کا بھی معاہدہ ہے تاہم انھوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رہتی اسپورٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رہتی ایلموڈ نامی فرم میں دھونی اور اہلیہ ساکشی کے 65 فیصد شیئر ہیں،ایک اور کمپنی اسپورٹس فٹ ورلڈ میں رہتی ایلموڈ73 فیصد کی مالک ہے۔ مہندرا سنگھ دھونی اپنے کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹس میں نائب صدر جبکہ ان کی ٹیم چنئی سپر کنگز کے شروع سے ہی کپتان ہیں۔ کپتان کی ان کاروباری سرگرمیوں کو کرکٹ ذمہ داریوں سے متصادم قرار دیا جارہا ہے۔



دو صورتحال ایسی ہیں جس میں واضح طور پر مفادات کا ٹکراؤ ہوا، ایک تو یہ کہ وہ بھارت کے تینوں فارمیٹس میں کپتان ہونے کے ساتھ رہتی اسپورٹس کے شریک مالک ہیں، اس لیے وہ کسی بھی ایسے پلیئر کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کو نہیں کہیں گے جس کا تعلق رہتی اسپورٹس سے ہو۔

اسی طرح وہ بورڈ کے صدر کی سیمنٹ کمپنی میں نائب صدر اور چنئی سپر کنگز کے تھنک ٹینک میں شامل ہیں، ناقص ترین کارکردگی کے باوجود بھی کسی سلیکٹر کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ انھیں کپتانی سے ہٹائے یا ٹیم سے باہر کرے، ایسا رواں برس کے آغاز پر ہوچکا جب انگلینڈ کے ہاتھوں ہوم ٹیسٹ اور پاکستان سے ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد دھونی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا تھا تو اس وقت سری نواسن نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دھونی کو بچالیا تھا۔ دوسری جانب رہتی اسپورٹس نے دعویٰ کیا کہ دھونی اب اس کے شیئر ہولڈر نہیں ہیں۔