پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ اور بھارتی ہرزہ سرائی

بھارت کو سوچنا ہو گا کہ مذاکرات سے ہمیشہ راہِ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔


Editorial September 23, 2018
بھارت کو سوچنا ہو گا کہ مذاکرات سے ہمیشہ راہِ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔ فوٹو : فائل

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے تک پاکستان کے ساتھ کوئی جامع مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جب تک لوگ سرحد پر مر رہے ہیں مذاکرات کی بات مناسب نہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کا یہ انتہائی شدید اور مخاصمانہ بیان عین اس وقت سامنے آیا ہے جب جمعرات کو نئی دہلی میں بھارت نے رضامندی ظاہر کی کہ شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج سائیڈ لائن پر بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پریس کانفرنس میں بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر رضامندی پاکستانی وزیراعظم کی درخواست پر دی گئی ہے جس کے لیے انھوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ملاقات کی تصدیق کی جا رہی ہے، تاہم اس ملاقات کو بھارتی پالیسیوں کی تبدیلی سے تعبیر نہ کیا جائے، اس ملاقات میں بھارت کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال ہونے جا رہے ہیں۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان کی اس سخت وضاحت کے بعد ہی ظاہر ہو گیا تھا کہ بھارت اپنی روش سے ہٹنے والا نہیں ہے لیکن سشما سوراج کے متنازعہ بیانات نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے اور یوں لگ رہا ہے جیسے بھارتی لابی نہیں چاہتی کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مثبت پیش رفت کی جائے۔ بھارتی ہرزہ سرائی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کے جواب میں بھارت نے الزام لگایا ہے کہ مذاکرات کے پس پردہ پاکستان کا ازسرنو بات چیت کا ایجنڈہ بہیمانہ اور شرانگیز ہے۔

جموں و کشمیر میں تین بی ایس ایف جوانوں کی کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ہلاکت پر بھی بھارت کا شدید ردعمل سامنے آیا جب کہ وزیرخارجہ نے یہ بھی ہرزہ سرائی کی کہ ''پاکستان ہمیشہ تاریخ کو خراب کرتا آیا ہے''۔

بھارت نے برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ اجرا کے معاملے پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے۔ بھارت نے کہا کہ پاکستان نے برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ سے دہشت گردوں کو جسٹیفائی کیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ متنازعہ ٹکٹ پاکستان نے حال ہی میں جاری کیے۔ بھارت نے کہا کہ عمران خان کا اصلی چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے نہ صرف سخت لہجہ اختیار کیا بلکہ پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات سے پیچھے ہٹتے ہوئے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ۔

بھارت کے پینترے بازیوں سے ایک دنیا واقف ہے، پاکستان نے جب بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا بھارت نے ہمیشہ الٹی چال چلی۔ مبصرین کے خیال میں اب سارک وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی غیر یقینی ہو گیا ہے، نیویارک میں ہونے والے اس اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کو شرکت کرنا ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت میں آیندہ سال انتخابات ہیں، چنانچہ بات چیت سے فرار بھارت کے شدت پسندوں کے دبائو کے باعث ہے۔ بھارت کو سوچنا ہو گا کہ مذاکرات سے ہمیشہ راہِ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی، مسائل اور تنازعات کا پرامن حل نکالنا از حد ضروری ہے، بھارت اپنے لہجے کی تلخی کو کم کرتے ہوئے شدت پسندانہ بیانات سے گریز کرے اور پاکستان کی امن کاوشوں کا مثبت جواب دے۔