شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے افسر اور جوانوں کی شہادت

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے سرحد پار سے آکر علاقہ میں خفیہ ٹھکانوں پر چھپنے کی اطلاع تھی


Editorial September 24, 2018
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے سرحد پار سے آکر علاقہ میں خفیہ ٹھکانوں پر چھپنے کی اطلاع تھی۔فوٹو: فائل

پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پے در پے آپریشن کر کے خطرناک عناصر کا قلع قمع کر دیا مگر کچھ فرار ہو کر ادھر ادھر چھپ گئے جو موقع بہ موقع اپنے پرانے ٹھکانے پر واپس آنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم ہماری چاق و چوبند سیکیورٹی فورسز انھیں ناکام بنا دیتی ہیں۔ تازہ واقعہ میں شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر بڑا آپریشن کرتے ہوئے 9 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

اس آپریشن میں ایک فوجی آفیسر سمیت7 اہلکار بھی وطن عزیز پر قربان ہو گئے، یہ آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقوں گرلامی اور پیرا کنڑ میں کیا گیا، دونوں طرف سے شدید فائرنگ کی گئی، پاک فوج کے تین حوالداروں اور ایک سپاہی کے علاوہ ایک کیپٹن نے بھی جام شہادت نوش کیا جب کہ تمام دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا، آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے سرحد پار سے آکر علاقہ میں خفیہ ٹھکانوں پر چھپنے کی اطلاع تھی جس پر آپریشن کیا گیا، اس دوران تمام 9 دہشتگرد مارے گئے اور تمام علاقے کو کلیئر کر کے دہشتگردوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، شہید ہونے والے آفیسر کیپٹن جنید اور دیگر اہلکاروں کی نماز جنازہ گزشتہ روز ادا کر دی گئی جس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی۔ اس کے بعد شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

ادھر ضلع باجوڑ میں کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے نائب آپریشنل کمانڈر سمیت دو دہشتگرد ہلاک کر دیے اور ان کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور اسلحہ برآمد کر لیا، شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشتگردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان پاکستان کے لیے مسلسل درد سر بنا ہوا ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں اور بدقسمتی سے پاکستان میں موجود بعض عناصر ان کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں' حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت سے بھی دوٹوک انداز میں بات کی جائے اور اسے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی پر مجبور کیا جائے۔