’سقوط کوئٹہ‘ کبھی نہیں

اپنی تاریخ کو مسلسل ذہن میں پالنے والا میں ایک مایوس پاکستانی ہوں اور سقوط ڈھاکا جیسے سانحہ کو برداشت کرنے والا...


Abdul Qadir Hassan June 04, 2013
[email protected]

لاہور: اپنی تاریخ کو مسلسل ذہن میں پالنے والا میں ایک مایوس پاکستانی ہوں اور سقوط ڈھاکا جیسے سانحہ کو برداشت کرنے والا ایک پاکستانی بھی۔ سقوط ڈھاکا میں بھارت، کچھ ڈھاکا والے، ہمارے بعض سیاستدان اور مقتدر و مدہوش پاکستانی جرنیل ملوث تھے۔ سقوط ڈھاکا کے برسوں بعد جب بلوچستان کے حالات نے پاکستان سے بغاوت کا رنگ اختیار کیا تو میرے مایوس اور خوفزدہ ذہن میں پرانی دکھی یادیں تازہ ہو گئیں۔ وہی بھارت' وہی مدہوش مقتدر پاکستانی رہنما اور وہی مقامی ناراض اور برہم لوگ اور وہی یہ بے بس قوم یعنی دیکھا جائے گا جو اللہ کو منظور ہو گا، ہم کیا کر سکتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر سقوط ڈھاکا کے بعد سقوط کوئٹہ دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ تمام اسباب اور عوارض بھی موجود تھے جو کبھی ڈھاکا کو لاحق تھے۔ عالمی امور کے غیر جانبدار بعض ماہرین نے مجھے بتایا کہ تمہارے پاکستان کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اتنے پاکستانی کوئی ملک برداشت نہیں کر سکتا بلکہ عین ممکن ہے بھارت جیسے ملک خود خطرے میں پڑ جائیں اور امریکا جیسے سامراجیوں کے لیے اٹھارہ بیس کروڑ بے مہار اور بے وطن پاکستانی کسی کنٹرول میں آنے والے نہیں ہوں گے، اس لیے پاکستان کا وجود تو قابل برداشت ہے البتہ اس کے نخرے اور متوقع دھماکے شاید برداشت سے باہر ہوں۔

اس کا ایٹم بم بہر حال قابل قبول نہیں ہو گا۔ پاکستان کے دشمن پاکستان کو زندہ اور ایک کمزور ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلامی بلاک میں پاکستان کا کوئی خاص کردار بھی پسندیدہ نہیں ہے اور بھی بہت کچھ ہے مگر پاکستان ان تمام خطروں اور امکانات کے باوجود قبول ہے۔ یہ بات تو ان لوگوں کی تھی جن کی پاکستان کے ساتھ کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی وہ بس ایک ماہر کی حیثیت سے بات کر رہے تھے لیکن میں سقوط ڈھاکا کا ڈسا ہوا پاکستانی بہت کچھ سوچ رہا تھا اور میرے ملک اور اس کی قیادت کے جو حالات تھے وہ مجھے بہت ڈرا رہے تھے۔

میری مایوسی کی یہ حالت تھی کہ میں نے اپنے پر فضا گاؤں اور گاؤں کے وسط میں لمبے چوڑے گھر میں ایک کمرہ اپنے ذہن میں مخصوص اور محفوظ کر لیا کہ اب میں کسی دن گھر چلا جاؤں گا۔ جہاں سے کبھی راوی کے اس پار آیا تھا۔ ایک معصوم دیہاتی لڑکا، نئے تعلیمی اداروں اور استادوں کی تلاش میں جو مجھے کچھ کا کچھ بنا دیں گے۔ میری جتنی اہلیت تھی اتنا تو انھوں نے مجھے بنا دیا لیکن ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا کر دیا۔

جو ایٹم بم کا دھماکہ سن کر ایک وجد اور رقص کی کیفیت میں گم ہو گیا اور سقوط ڈھاکا کا دھماکہ سن کر دل چھوڑ کر بیٹھ گیا ایک ایسے بزدل پاکستانی کے سامنے جب بلوچستان کے صوبے میں بے سکونی نے اس کے پہاڑوں اور سبزہ زاروں میں گھر کر لیا تو وہ پاکستانی زندگی سے مایوس ہو کر پہاڑوں میں دھونی رمانے کی سوچنے لگا جہاں اس کا بچپن ابھی تک ہوا میں مٹھیاں چلا رہا تھا اور اپنے ساتھ پیار کرنے والوں سے ہنس رہا تھا۔ گاؤں کے ان پہاڑوں اور ان کی ترائیوں میں بچھے ہوئے سبزہ زاروں کا کوئی سقوط ڈھاکا اور کوئی سقوط کوئٹہ نہیں ہوتا۔

کھیت ہوتے ہیں، ان میں فصل ہوتی ہے اور یہ قدرتی بارش سے بھر جاتے ہیں۔ یہ خوبصورت سادہ اور صاف ستھرا ماحول اخباروں اور ٹی وی کی آلائشوں سے پاک ہوتا ہے تو خواتین و حضرات میں ایسی بے معنی مایوس اور زندگی دشمن باتیں سوچ رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ بلوچستان میں عوام کو حکومت دی گئی ہے یعنی ان لوگوں کو جو عوام میں سے ہیں سرداروں میں سے نہیں۔

میں زندگی کی یہ سب سے بڑی خوش خبری سن کر اچھل پڑا۔ پہلے تو اس خوشخبری کی لذت میں گم رہا۔ آج چائے کی جگہ کافی پی اگر کوئی فون آیا تو اسے خوش ہو کر جواب دیا اور جو گھر والے سمجھ سکتے تھے ان کو بتایا کہ اب ہم ایک بہت بڑے خطرے سے باہر نکل آئے ہیں جو بچ گیا وہ سلامت ہے کیونکہ اس بچے کھچے پاکستان کے حکمران اس کو لاحق خطروں کا احساس رکھتے ہیں اور نہ صرف احساس بلکہ ان کا ازالہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں اب کسی بلوچی میدان سے سقوط کوئٹہ کی خبر نہیں آئے گی۔

میاں نواز شریف نے اپنے اقتدار کو ہضم کیا ہے، یہ اقتدار کسی فوجی آمر نے نہیں یہ کسی جابر کی عطا نہیں، یہ عوام کی عطا اور نوازش ہے، میاں صاحب آپے سے باہر نہیں ہوئے اور انھوں نے زندگی کے اس نادر موقع کو قوم کے اتحاد اور سلامتی کے لیے استعمال کیا ہے، ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں ان کا شکر گزار ہوں اور حیرت زدہ ہوں کہ میاں صاحب جیسے سیاسی لیڈر کے متوسلین جن سے ہماری صحافتی دنیا بھی بھری ہوئی ہے کسی نے دل کھول کر اور جی بھر کر ان کی تعریف نہیں کی بلکہ شاید اس کا بس سرسری سا ذکر کیا ہے یا تو ان کی سمجھ میں 'سقوط کوئٹہ' کا خطرہ آیا ہی نہیں سب کچھ سر سے گزر گیا ہے یا پھر میاں صاحب نے اپنی میڈیا پالیسی کچھ بدل لی ہے جو کچھ بھی ہے میں جو اس پیشے میں موجودہ کئی ایک دوستوں سے سینئر ہوں، ان سے شکایت کرتا ہوں وہ ملک کو بچانے کی اس سو فی صد جمہوری کوشش کی بھرپور تحسین نہیں کر سکے۔

بلوچستان میں سے کچھ آوازیں جو ظاہر ہے کہ سرداروں کی ہیں بلوچستان کے عوام کے خلاف اٹھی ہیں۔ میں اپنی حد تک ان کی خدمت میں کچھ گزارش کروں گا۔ یہاں آخر میں آپ قارئین کو ایک خوشخبری سناتا ہوں کہ میاں صاحب اخبار نہیں پڑھا کرتے یعنی پہلے نہیں پڑھا کرتے تھے، ایک بار ان کے سامنے اس کا ذکر آیا تو محکمہ اطلاعات والوں سے کہا گیا کہ آپ میاں صاحب کو اخبارات کے مندرجات سے کیوں مطلع نہیں کرتے تو انھوں نے بتایا کہ سر ہم تو باقاعدہ سمری بھجواتے ہیں۔ اس پر وہاں موجود جناب مجید نظامی صاحب نے کہا کہ میاں صاحب یہ سمری بھی نہیں پڑھتے، ایک بلند قہقہے کے بعد یہ بات ختم ہو گئی لیکن مجھے شبہ ہے کہ میاں صاحب اب بھی اخبارات نہیں پڑھتے اور یہ ایک خوشخبری ہے۔

مقبول خبریں