مشترکہ مفادات کونسل کے اہم فیصلے

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلے قوم کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔


Editorial September 26, 2018
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلے قوم کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔ فوٹو: پی آئی ڈی

مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ملک میں قائم ریگولیٹری اتھارٹیز کی موثر عملداری اور صوبوں میں حکومتی رٹ کو یکساں طور پرلاگو کرنے کے سلسلے میں قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دیدی ہے، نیٹ ہائیڈل پرافٹس کے سلسلے میں اے جی این قاضی فارمولے پُرمن و عن عملدرآمد پر اتفاق ہوگیا، ای اوبی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ(ڈبلیو ڈبلیو ایف)کی صوبوں کو منتقلی کے حوالے سے انتظامی، مالی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے وزیرِ بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم ، پٹرولیم پالیسی 2012 میں حکومت سندھ کی تجویزکردہ ترامیم کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نے نئے بلدیاتی نظام پر بھی چاروں وزرائے اعلی کواعتماد میں لے لیا ۔

سی سی آئی کے اس اہم اجلاس میں فیصلے نئی حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں اور اس بات کا فیصلہ ان منصوبوں اور فیصلوں پر ان کے الفاظ و روح کے ساتھ عملدرآمد سے مشروط ہے، جو بنیادی بات اجلاس کی انفردایت بنی ہے وہ صوبائی قیادت کی فکری ہم آہنگی ،خیر سگالی ،صوبوں کی اجتماعی ترقی اور عوام کو ملنے والے ثمرات پر اتفاق رائے ہے، ورنہ ماضی میںایسے اجلاس صوبائی قیادت کے اعتراضات، تحفظات اور وفاق سے شکوے شکایات پر ہی ختم ہوئے۔

اس صائب سیاق و سباق میں امید کی جانی چاہیے کہ مذکورہ اجلاس مستقبل میں وفاق و صوبوں کے مابین تصفیہ طلب معاملات ، معاشی ترقی اور صوبوں کے جائز مطالبات و شکایات کے ازالے کے لیے درست سمت میں پیش رفت ہوگی، بین الصوبائی اشتراک عمل کی آج جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ وفاقی حکومت اہم ملکی معاملات پر صوبوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیر کو یہاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اوروفاقی کابینہ کے اراکین شریک ہوئے۔ اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈے پر غورکیا گیا، جس میں قومی صفائی مہم ، سیکنڈ ہینڈ ٹریکٹرکی درآمد، ایل این جی کی درآمد، پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012، ورکرز ویلفیئر فنڈ اورای او بی آئی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔

وزیراعظم نے صوبائی قیادت کو اہم ملکی معاملات پر ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت اٹھارویں ترمیم سے بھی آگے جانا اور صوبوں کو مزید خود مختار بنانا چاہتی ہے ، وسائل کی شفاف تقسیم اور نچلی سطح تک منتقلی یقینی ہوگی، تاہم وقت کا تقاضہ ہے کہ داخلی افہام و تفہیم کے ساتھ خطے کی صورتحال اور عالمی سیاسی تبدیلیوں اور چیلنجز سے نمٹنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔

اجلاس نے بلوچستان کو یاد رکھا اور کہا کہ صوبہ میں تعلیمی معیارکی بہتری لائی جائے گی، اعلیٰ تعلیم میں یکسانیت کے فروغ کے سلسلے میں وفاق اور صوبوں کے در میان مثالی کوارڈینیشن کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں سے ملکر لائحہ عمل وضع کرنے اورآیندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مشاورت مکمل کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بلوچستان میں صحت کی سہولتوں اور خصوصاً کینسر کے مرض کی بروقت تشخیص و علاج کے سلسلے میں شوکت خانم اسپتال کی سروسز بلوچستان تک پھیلائی جائیں گی۔

اسی طرح کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی کی صوبہ سندھ کی درخواست نیشنل واٹرکونسل کے سپردکر دی گئی ، بلاشبہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کو اپنی سفارشات میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور اس کے بہتر استعمال پر توجہ دینا ہوگی ، علاوہ ازیں پلاننگ کمیشن کو بلوچستان میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینے اور پلاننگ کمیشن کے جائزے کی روشنی میں فوری اہمیت کے منصوبوں پر عملدرآمد خوش آیند ہے جب کہ پٹ فیڈر اورکیرتھر کینال میں پانی کی کم دستیابی کے معاملہ پر سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ کو باہمی طور پر معاملے کو حل کرنے کی استدعا بروقت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کا ایک ایسا جامع اور شفاف نظام مرتب کیا جائے جس سے تمام صوبوں کو بروقت اور صحیح معلومات کی فراہمی میسر آسکے۔ وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ صحیح معلومات کی فراہمی کا فقدان غلط فہمیوںکا باعث بنتا ہے لہذا اس سلسلے میں فوری اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں پٹرولیم پالیسی 2012ء میں حکومت سندھ کی تجویز کردہ ترامیم کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے، علاوہ ازیں ملک میں یکساں معیار اور اسٹینڈرڈزکو یقینی بنانے اور اس ضمن میں متعلقہ کمپنیوں کو ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس میں تمام صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمایندگی شامل ہوگی۔

یوں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلے قوم کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں، اجلاس میں قومی معاملات اور صوبوں کے مفادات پر اتفاق رائے مستقبل پر یقین کی غمازی کرتا ہے، ضرورت اب قومی ترقی و صوبائی اشتراک عمل اور قیادت کے مابین خیر سگالی اور وفاق کے اقدامات کی ہمہ جہت حمایت کو معاشی خوابوں کی تعبیر کا ذریعہ بنانے کی ہے اور موجودہ حکومت بجا طور پر اس ٹاسک میں سرخرو ہوسکتی ہے ۔