میٹرک و انٹر امتحانات سینٹر لائزڈ امتحانی ہالز کی تعمیر کا فیصلہ

18ٹائونز میں ہالز کی تعمیر کے بعد اسکولوں اورکالجوں میں امتحانی مراکز کے قیام کا سلسلہ ختم ہوجائے گا


Staff Reporter June 06, 2013
18ٹائونز میں ہالز کی تعمیر کے بعد اسکولوں اورکالجوں میں امتحانی مراکز کے قیام کا سلسلہ ختم ہوجائے گا فوٹو: فائل

محکمہ تعلیم نے میٹرک اور انٹر کے امتحانی عمل کوشفاف بنانے اورنقل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابوپانے کیلیے کراچی سمیت سندھ بھر میںامتحانی مراکز کے قیام کے سلسلے میں ''سینٹر لائزڈ امتحانی ہالز'' کی تعمیرکا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اسکولوں اورکالجوں میں امتحانی مراکز کے قیام کاسلسلہ ختم ہوجائے گا۔

اس سلسلے میں سندھ کے ہرضلع جبکہ کراچی کے18ٹائونز میں بھی امتحانی ہالز قائم کیے جائیں گے، امتحانی ہالز کی تعمیر کیلیے آئندہ ماہ آنے والے نئے بجٹ میں رقم مختص کی جارہی ہے،محکمہ تعلیم کی سالانہ ترقیاتی اسکیم میں منصوبے کو شامل کرلیا گیا ہے،یہ بات صوبائی ایڈیشنل چیف سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہونے اپنے دفترمیں اخبار نویسوں کے ساتھ گفتگو میں بتائی، سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکا کہنا تھاکہ سندھ بھرمیں امتحانی نظام تباہی سے دوچار ہے،نقل کی شکایت عام ہیں۔



صوبائی محکمہ تعلیم کی سفارش پر چیف سیکریٹری سندھ پہلے ہی سندھ کے تمام تعلیمی بورڈزکاانتظام محکمے کوسونپنے کی منظوری دے چکے ہیں لہٰذا امتحانی عمل کو شفاف بنانے اور امتحانی مراکز کے قیام کے سلسلے میں بدعنوانی کی اطلاعات کے بعد محکمہ تعلیم نے اپنی سالانہ اے ڈی پی اسکیم میں مرکزی بنیادوں پرامتحانی ہالز کی تعمیر کا منصوبہ بناتے ہوئے حکومت سندھ سے اس سلسلے میں فنڈز بھی مانگ لیے ہیں، ایک سوال پر صوبائی ایڈیشنل چیف سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکا کہنا تھاکہ کسی اے ڈی پی کی منظوری اورامتحانی ہالز کی تعمیرکے بعدقوی امکان ہے کہ آئندہ برس ہونیوالے میٹرک اور انٹر کے امتحانات انہی امتحانی ہالز میں منعقد کرائے جائیں ۔

مقبول خبریں