سعودی عرب سے گرانٹس کے معاہدے خوش آئند

سعودی عرب کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو مہمیز ملے گی۔


Editorial September 29, 2018
سعودی عرب کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو مہمیز ملے گی۔ فوٹو: پی آئی ڈی

حکومت ملکی معاشی و اقتصادی نظام اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے بڑی سرعت سے اقدامات کر رہی ہے جو خوش آئند ہے۔ اس مقصد کے لیے داخلی سطح پر اقتصادی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر غیرملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ چین پہلے ہی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اب موجودہ حکومت کے غیرملکی سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھانے کے لیے سعودی عرب سمیت روس سے معاہدے طے پائے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تین بڑی گرانٹس کے معاہدے طے پا گئے ہیں' سعودی عرب سی پیک اور انفرااسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے' اس پیش رفت کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے' سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری' وزیر پٹرولیم' وزیر توانائی اور دیگر پر مشتمل ایک اہم وفد اتوار کو پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے چند روز پیشتر سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انھوں نے سعودی شاہ سلمان اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں' سعودی عرب کے ساتھ 3بڑی گرانٹس کے معاہدے وزیراعظم عمران خان کے اسی دورے کا تسلسل ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے زور دیا تھا کہ جو بھی معاملات ہیں انھیں تیزی سے نمٹایا جائے گا۔ موجودہ حکومت کے سامنے داخلی اور خارجی سطح پر مختلف النوع مسائل اور چیلنجز منہ کھولے کھڑے ہیں ان میں توانائی کا بحران' کرپشن' افغان مہاجرین' گردشی قرضے' کمزور انفرااسٹرکچر' مہنگائی سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹیں سرفہرست ہیں' حکومت ان سے نمٹنے کے لیے مختلف پالیسیاں تشکیل دے رہی ہیں۔

چین کے بعد پاکستان میں سعودی عرب بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا تو اس سے لامحالہ ترقی اور خوشحالی کے نئے در وا ہوں گے' روز گار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے بیروز گاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں گیس کا بحران صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہونے کے علاوہ گھریلو صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے' اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے پاکستان اور روس کے درمیان دس ارب ڈالر گیس کا معاہدہ خوش کن ہے' رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان روس سے 50کروڑ سے ایک ارب مکعب فٹ گیس یومیہ درآمد کرے گا' اس سلسلے میں روس سمندر کے راستے گیس فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھائے گا۔

افغان مہاجرین کا مسئلہ ایک عرصے سے حکومت کے لیے درد سر چلا آ رہا ہے اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جامع پالیسی بنانے کا وقت آگیا ہے' جس کا عندیہ موجودہ حکومت نے دے دیا ہے' وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ حکومت کے پاس دو آپشن تھے کہ افغان مہاجرین کا معاملہ جیسے ہے ویسے ہی چلتا رہے یا اس میں کوئی فیصلہ کیا جائے' اس وقت 20لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ اور 5لاکھ غیر رجسٹرڈ ہیں' ان کی پاکستان میں قیام کی مدت میں 30جون 2019ء تک توسیع دے دی گئی ہے۔

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال سمیت اقتصادی شعبے کو دہشت گردی نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے' آج بھی افغانستان کی جانب سے سرحدی معاملات کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً دہشت گرد افغانستان سے پاکستانی سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں' اس صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے۔

معاشی نظام بہتر طور پر چلانے کے لیے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ حکومت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے' وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کے مطابق توانائی سیکٹر میں گردشی قرضوں کا حجم 12سو ارب اور گیس کے شعبے میں 150ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے 50لاکھ گھروں کا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کرنے پر غور کر رہی ہے' یہ منصوبہ شروع ہونے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور بڑے پیمانے پر روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

سعودی عرب کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو مہمیز ملے گی اور وہ بھی آگے بڑھ کر یہاں سرمایہ کاری کریں گے اس کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت توانائی کے بحران اور دہشت گردی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر بھرپور توجہ دے۔