اسکولوں کی من مانی پر والدین پھر سڑکوں پر آ گئے

اسٹاف رپورٹر  اتوار 30 ستمبر 2018
نجی اسکول قانون شکن بن گئے، مظاہرین کی نجی اسکولوں اور حکومت کیخلاف نعرے، پولیس اور مظاہرین میں تلخ کلامی۔ فوٹو: ایکسپریس

نجی اسکول قانون شکن بن گئے، مظاہرین کی نجی اسکولوں اور حکومت کیخلاف نعرے، پولیس اور مظاہرین میں تلخ کلامی۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: نجی اسکولوں کی من مانی اور فیسوں سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر والدین ایک بار پھر سراپا احتجاج بن گئے۔

یونیورسٹی روڈ پرایکسپو سینٹر کے باہر سڑک پر کراچی بھر کے نجی اسکولوں میں تعلیم طالبعلموں کے والدین نے پر امن احتجاجی ریلی نکالی جس میں مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قانون کو عزت دو، اضافی فیس واپس دو اور دیگر نعرے درج تھے، احتجاجی مظاہرے میں طلبا و طالبات سمیت والدین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری کاروائی کا مطالبہ کرنے کی کوشش کی تو  پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روڈ بند کرنے سے روک دیا گیا، اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اس موقع پر مظاہرین نے عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کے حوالے سے نعرے لگائے جبکہ والدین نے سندھ حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی کر کے انصاف کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے کہا کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں، کراچی کے نجی اسکول مستقل قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز عدالتی حکم کے باوجود وصول شدہ زائد فیسیں واپس نہیں کر رہے اور اسکولز انتظامیہ فیسیں واپس کرنے سے صاف انکار کر رہی ہے، عدالت نے پرائیویٹ اسکولوں کو فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ نہ کرنے کا پابند کیا ہے لیکن پرائیویٹ اسکول عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کر رہے اور نہ ہی اس حوالے سے متعلقہ محکمہ کوئی کارروائی عمل میں لارہا ہے۔

والدین نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری بھرکم فیسیں ہماری جیبوں پر بھاری تو ہیں ہی ساتھ ہی تعلیم کو پیشہ اور پیسہ بنانے کا سبب بھی بن رہی ہیں والدین نے مطالبہ کیا کہ نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے احتجاج 2 گھنٹے تک جاری رہا۔

واضح رہے کہ 3 ستمبر کو عدالت کی جانب سے فیصلہ آیا تھا کہ سندھ کے تمام نجی اسکول سالانہ 5 فیصد سے زائد فیس نہ بڑھانے کے پابند ہوں گے جبکہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وصول کی گئی اضافی فیس واپس یا آئندہ آنیوالے مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔