سو چھیدوں کی چھلنی…

پاکستان میں جرائم کا گراف اِتنا اونچا ہے کہ دنیا کے جرائم کے حوالے سے بدنام ممالک بھی اس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari August 16, 2012
[email protected]

ایک خبر کے مطابق ہتھیاروں کی تجارت کے حوالے سے نیویارک میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا مقصد ایک ایسے معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا، جس کے ذریعے منظم جرائم پیشہ گروہوں کو ہتھیاروں کی فروخت روکی جا سکے۔ یہ کانفرنس بغیرکسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ روس، چین اور امریکا نے اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ کانفرنس کے سربراہ رابرٹوگارشیا پُر امید ہیں کہ اس سال کے آخر تک اس اہم عالمی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

پسماندہ ملکوں کے علاوہ دنیا کے انتہائی مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی جن میں امریکا بھی شامل ہے، جرائم پیشہ گروہ بڑی تعداد میں موجود ہیں، جنھیں ''انڈر ورلڈ'' کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکا کی بعض ریاستیں تو ان ہی انڈر ورلڈ گروہوں کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ پاکستان ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے لیکن یہاں جرائم کا گراف اب اِتنا اونچا ہو گیا ہے کہ دنیا کے جرائم کے حوالے سے بدنام ممالک بھی پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے، یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی شہری نہ گھر کے اندر محفوظ ہے نہ گھر کے باہر۔

بچّے اسکول کالج کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں تو ماں باپ ان کے خیریت سے گھر واپس آنے کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ شوہر اور بیٹے ملازمتوں اور کاروبار کے لیے جاتے ہیں تو انھیں امید نہیں ہوتی کہ وہ شام کو خیریت سے گھر واپس آ جائیں گے۔دنیا کے جرائم میں جب سے دہشت گردی کا اضافہ ہوا ہے، سماجی جرائم نے ایک نئی اور انتہائی بھیانک شکل اختیارکر لی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا خطّہ انتہا پسندی، شدّت پسندی، عسکریت پسندی کی ان نئی اصطلاحوں کے ساتھ بے گناہ انسانوں کے خون میں اس طرح ڈوبا نظر آتا ہے کہ دوسرے تمام جرائم اس کے سامنے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے نام پر ماضی میں لسانی اور فقہی حوالوں سے جو خون خرابا ہوتا رہا ہے، اس میں دہشت گردی کا عنصر شامل ہونے کے بعد کراچی ایک ایسا مقتل بن گیا ہے، جہاں ہر روز درجنوں بے گناہ انسان قتل ہو رہے ہیں۔ قانون اور انصاف سمیت تمام ادارے مکمل طور پر بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز جن میں چوری، ڈکیتی، کاریں، موٹر سائیکلیں، موبائل فون چھیننے سے لے کر بارودی گاڑیوں کے ذریعے خودکش حملے شامل ہیں، ہمارے اس نظام کی پیداوار ہیں جسے انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ناگزیر نظام سرمایہ داری کہا جاتا ہے۔ موبائل چھیننا ہو، چوری ہو، ڈکیتی ہو، ان تمام جرائم میں ہلکے اور بھاری دونوں ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔

افغانستان پر روسی قبضے سے پہلے ہمارا ملک ہتھیاروں کی بھرمار سے پاک تھا، جرائم نہ ہونے کے برابر تھے، لوگ کراچی کی سڑکوں پر رات بھر بلاخوف و خطر گھومتے پھرتے تھے، ہوٹل رات بھر کھلے رہتے تھے، چوری ڈکیتی کا کوئی ایسا کلچر موجود نہ تھا جس کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں۔ لیاری کے عوام کوگینگ وار کے کارندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ کوئی ان کی حکم عدولی کی جرات نہیں کر سکتا۔ سینئر صحافی نادر شاہ عادل کے تین بیٹوں کو جس بیدردی سے گینگ وار کارندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا وہ چشم کشا اور پی پی حکومت کے لیے عبرت ناک ہے۔

ہمارے مہذب اور دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکا نے جب ضیاء الحق کے تعاون اور مجاہدین کی مدد سے روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی تو مجاہدین کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں سمیت چھوڑ کر روس کی شکست پر شادیانے بجانے میں مصروف ہو گیا اور پاکستان کے گھر گھر تک امریکا کا دیا ہوا اسلحہ ایک تباہ کن وبائی بیماری کی طرح پھیل گیا۔ آج نیویارک میں اسلحے کی فروخت کے حوالے سے جو کانفرنس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی، اس کی سب سے بڑی ذمے داری امریکا پر عاید ہوتی ہے کہ روایتی چھوٹا ہتھیار سب سے زیادہ اسی کی اسلحہ ساز کمپنیوں میں تیار ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں ہونے والے سماجی جرائم اور دہشت گردی اسی امریکا کی عنایتیں ہیں جسے آج سماجی جرائم اور دہشت گردی کے پھیلائو سے سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔نیویارک میں ناکامی سے دوچار ہونے والی اس کانفرنس میں روس اور چین بھی شامل تھے۔ اسے دنیا کی بدقسمتی کہیں یا روسی اور چینی حکمرانوں کا نظریاتی جرم کہ یہ ملک جہاں سوشلسٹ نظامِ حکومت کی موجودگی تک جرائم کا نام و نشان نہ تھا، اب وہاں وہ تمام جرائم دھڑلے سے ہورہے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی حصّہ ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی غلاظتوں اور مظالم سے تنگ آئی ہوئی دنیا نے سوشلسٹ نظام کی طرف بڑی امیدوں سے دیکھا اور اس نظام کے متعارف کردہ معاشی انصاف پر مبنی سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کی اس طرح آئو بھگت کی کہ دنیا کا 1/3 حصّے نے اس نئے نظام کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ دور خواب کی طرح گزر گیا۔ خبر کے مطابق چین، روس اور امریکا نے اس عالمی معاہدے پر غور کرنے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ دنیا کے ان بڑے ملکوں کا حکمران طبقہ عقل و فہم کے دیوالیہ پن کی ان حدوں کو عبور کر گیا ہے جہاں سے دیوانگی کی سرحدیں شروع ہو جاتی ہیں۔ مغرب کے احمق یا ریاکار حکمران آئے دن اس قسم کی بے مقصد اور بے سمت کانفرنسوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد عوام کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

وہ نظام جس میں حصولِ دولت کے لیے بیٹا ماں کو، بھائی بہن کو، شوہر بیوی کو بیچ دیتا ہے، اس نظام میں کیا چھوٹے ہتھیاروں کی تجارت پر اس قسم کی پابندیوں کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ سرمایہ دارانہ نظام کی سو چھیدوں والی چھلنی میں پانی کو روکنے کی کوششیں سوائے عقلی دیوالیہ پن یا دھوکا دہی کے اور کیا کہلاسکتی ہیں۔بلیک مارکیٹ کی اندھی اور تاریک گلیوں میں دنیا کی ہر چیز دستیاب ہے۔

اگر یہ تینوں ممالک سوچ بچار کے بعد جرائم پیشہ گروہوں کو اسلحہ فروخت نہ کرنے کے کسی معاہدے پر پہنچ بھی جاتے ہیں تو دنیا بھر کے جرائم پیشہ گروہوں کو بلیک مارکیٹوں سے اسلحہ خریدنے سے کون روک سکتا ہے؟ ہمارے شہر ہی کو لے لیجیے، اس شہر میں بغیر لائسنس کے اسلحہ فروخت کرنا غیر قانونی ہے لیکن غیر قانونی اسلحہ کراچی کی گلی گلی گھر گھر میں موجود ہے اور دھڑلے سے استعمال بھی ہو رہا ہے۔ قانون اور انصاف، پولیس، ایف سی اور رینجرز ہر روز چھاپے مار کر جتنا اسلحہ ضبط کرنے کی نوید دیتے ہیں، بلیک مارکیٹوں سے اس سے دس گنا زیادہ اسلحہ مجرموں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے۔

وہ بھی ہزاروں میل کا محفوظ سفر کر کے ہزاروں چوکیوں، تھانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آتا ہے۔ سو نیویارک میں کانفرنس کرنے والو! تم اندھے ہو، بہرے ہو، عقل و فہم سے عاری ہو کہ ہزاروں چھید والی چھلنی میں پانی روکنے کی کوشش کر رہے ہو اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تم دہشت گردی کے جس عفریت سے خوف زدہ ہو، وہ عفریت تمہارے ہتھیاروں کا محتاج نہیں، وہ تو ہر جگہ ملنے والے بارود اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی جیکٹوں کے ساتھ تمہارے سامنے کھڑا تمہیں للکار رہا ہے۔ لائو ایٹم بم پھینکو ان پر...؟

مقبول خبریں