معیشت گومگو کی کیفیت سے نکلے

اقتصادی مذاکراتی بساط پر جو کچھ نظر آرہا ہے وہ خدا نہ کرے فریب نظر ہو۔


Editorial October 05, 2018
اقتصادی مذاکراتی بساط پر جو کچھ نظر آرہا ہے وہ خدا نہ کرے فریب نظر ہو۔ فوٹو : فائل

قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ (فنانس ترمیمی بل2018) کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کی بل پر تمام ترامیم مسترد کردی گئیں جب کہ سینیٹ کی جانب سے ترمیمی فنانس بل پر دی گئی27 میں سے صرف ایک سفارش کو منظور کیا گیا، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل میں نان فائلرز پر جائیداد اورگاڑی خریدنے پر دوبارہ پابندی عائدکردی۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں ضمنی بجٹ پر سینیٹ کی سفارشات پر غور کیا گیا جس کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2018ء منظوری کے لیے پیش کیا۔

ترمیمی بل کی منظوری اگرچہ ملکی معاشی ضرورت کی ایک اہم ترین ترجیح تھی مگر سرعت اور غیر معمولی عجلت میں کیے گئے فیصلے اور پھر ان سے یوٹرن کے گھنائونے چکر نے عجیب گومگو کی کیفیت پیدا کی ہے، عوام ، تاجر و کاروباری حلقے تذبذب میں ہیں، اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بھی پنگ پانگ کا کھیل جاری ہے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا میلہ سا لگا ہوا ہے اور میڈیا ٹاکس نے معاشی معاملات پر خبردار بھی کیا ہے کہ حکومت کا ہر اگلا قدم معاشی عملیت پسندی پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ بجٹ کے تناظر میں میکرو اور مائیکرو اکنامک پالیسیوں کی تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے نتائج پیش کیے جائیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل 2018 پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاکہ ملک ہم سب کا ہے، رائے کا اختلاف ہوسکتا ہے، پی ایس ڈی پی پر بہت بات کی گئی ہے، ترقیاتی اسکیموں کے قتل عام کی بات کی گئی۔ پچھلی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے اعداد و شمار کاغذ پر ضرور لکھے تھے لیکن اتنے پیسے خرچ نہیں ہوسکتے، حقیقت میں گزشتہ سال پی ایس ڈی پی کے تحت 661 ارب خرچ کیے گئے تھے۔

ہم گزشتہ سال سے زیادہ ترقیاتی اخراجات کریں گے، بلوچستان کے منصوبے صرف کاغذی تھے اور ان کی منظوری بھی نہیں ہوئی۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ بجلی کے معاملے پر زیادتی کی گئی، ان علاقوں میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اور تاثر دیا جاتاہے کہ لوگ بل نہیں دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت وفاق ٹرانسمیشن کا نظام بچھا رہا تھا تو چھوٹے صوبوں کو ترجیح نہیں دی گئی۔

کے پی کے اور بلوچستان میں بجلی کی ترسیل مشکل کام ہے۔ایک سال کے اندر گردشی قرضوں میں453ارب روپے کا اضافہ ہوا اور اس وقت یہ قرضے 1200ارب سے تجاوزکرچکے ہیں، جو کام یہ40 سال میں نہیں کرسکے ہم سے پوچھتے ہیں کہ 40دن میں کیوں نہیں کیے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی طرح اوگرا کے مطابق گیس کے نظام میں 154ارب کا خسارہ ہے۔

گردشی قرضے اس نہج کو پہنچ گئے ہیں کہ اب ادائیگی کے لیے پیسے نہیں بچے، بدترین معاشی پالیسیاں اختیار کی گئیں، پاکستان اسٹیل ملز 3 سال بند پڑی ہے، مزدوروں کے 40ارب کے ورکرز ویلفیئر فنڈ پرڈاکا ڈالاگیا، وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ملک میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو ان کو استثنیٰ ملے گا۔ وراثت کے کیسوں میں بھی استثنیٰ دیں گے۔

زراعت پر تقریریں بہت ہوئی ہیں لیکن صرف 4یا 5 سفارشات میرے پاس آئی ہیں ان میں زراعت نہیں ہے، ہم 6 سے 7 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں، ربیع کی فصل کے لیے یوریا کھاد پر سبسڈی دے رہے ہیں، ایل این جی پلانٹس پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں۔حقیقت میں ملکی معیشت کو ضرورت ہمہ جہت بریک تھرو کی ہے، انتہائی ٹھوس، زمینی اور معاشی حقائق سے جڑے اقدامات اور تبدیلی کے مظہر انقلابی اعلانات کے پس پردہ حکومتی ٹیم کے اقتصادی وژن کا پتا چلنا چاہیے کہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے۔

بعض ماہرین اقتصادیات کا شکوہ ہے کہ معیشت بے سمت ہے ، حکومت اس راز پر سے پردہ ہٹانے پر تیار نہیںکہ وہ آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج لینے نہیں جارہی تو پھر یا الہی یہ ماجرا کیا ہے کہ سلسلہ جاری کیوں ہے؟حکومت کشکول بدست ہونے کا کوئی تصور نہیں رکھتی تو مالیاتی اداروں کو خدا حافظ کہنے میں لیت و لعل سے کام لینے کی ضرورت نہیں، جب کہ دوراندیشی، باریک بینی اور نتیجہ خیز ذہانت ومہارت کی عکاسی بجٹ پر عملدرآمد کے دوران لازمی ہونی چاہیے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی مذاکراتی بساط پر جو کچھ نظر آرہا ہے وہ خدا نہ کرے فریب نظر ہو ، مگر بے یقینی ، فیصلوں میں لرزاہٹ اور عوام کے معیار زندگی میں کایا پلٹ سے عدم مطابقت اور شفاف و دوررس معاشی تفکر ومتوازن معاشی پالیسیوں پر تجربہ کاری اور سوچ بچار کے فقدان کی جھلک نمایاں ہے ۔ فنانس بل پر اپوزیشن کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے جس میں ملک کو درپیش معاشی مسائل کے ٹھوس حل کی طرف کوئی بامعنی پیش رفت کی نوید نہیں ملتی، چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد جیسی صورتحال ہے جس پر تشویش بجا ہے ، معاشی منظرنامہ کی سنگینی کو ہرگز بڑھاوا نہیں ملنا چاہیے، اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی رغبت کم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوسکتا ہے ، مزید برآں سرمایہ کاری کے امکانات امن واستحکام کی قابل رشک ماحول سازی سے ہی روشن ہوسکتے ہیں ۔حکومت معیشت کے استحکام کے لیے اب کمر کس لے۔

 

مقبول خبریں