مشرف دور میں قربانیاں دینے والے ارکان کیلئے اہم ترین وزارتیں

جھگڑا ، مشاہد،ذوالفقار کھوسہ کو پہلے مرحلے میں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا


Numainda Express June 08, 2013
جھگڑا ، مشاہد،ذوالفقار کھوسہ کو پہلے مرحلے میں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا فوٹو : اے ایف پی/فائل

99 ء میں وزیراعظم نواز شریف کا ساتھ دینے والے والے پارٹی رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی کو وفاقی کابینہ میں نمایاں نمائندگی دی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ میں لاہور ڈویژن سے 7 اور گوجرانوالہ ڈویژن سے 6وزراء شامل کیے گئے ہیں۔ خواجہ آصف، احسن اقبال، زاہد حامد، خرم دستگیر، عثمان ابراہیم اور سائرہ افضل تارڑ کا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن سے ہے جبکہ سینٹر اسحاق ڈار،سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، سینٹر کامران مائیکل ،رانا تنویر حسین، انوشہ رحمٰن اور چوہدری برجیس طاہر لاہور ڈویژن سے ہیں۔ راولپنڈی ڈویژن سے3 وزراء چودھری نثار علی خان،شاہد خاقان عباسی اور آفتاب شیخ وزیر بنائے گئے ہیں ۔ اسطرح اٹک سے لاہور تک وسطی پنجاب کی پٹی سے16 وزراء بنائے گے ہیںجنہوں نے پرویز مشرف دور میں نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران بڑی قربانیاں ہیں اور اہم ترین وزارتیں بھی انہیں دی گئی ہیں ۔

وسطی پنجاب سے صرف زاہد حامد واحد وفاقی وزیر ہیں جو مشرف دور میں بھی وزیر قانون تھے۔ فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے پہلے مرحلے میں کوئی وزیر نہیں بنایا گیا ۔مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا ، سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ خاں اور سابق گورنر سردار ذوالفقار علی خاں کھوسہ کو اکاموڈیٹ نہیں کیا گیا ۔ مشاہد اللہ خاں نے 99 ء میں نواز شریف کی گرفتاری کے بعد 14 اکتوبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے پہلی گرفتاری دی تھی ان کے ساتھ 38 لیگی کارکن بھی گرفتار ہوئے تھے ۔خیبر پختوخوا سے مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے امیر مقام اور سردار یوسف کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔جنوبی پنجاب سے تین وزراء کابینہ میں لئے گئے ہیں۔ بہاولپور سے ریاض حسین پیر زادہ کو وفاقی وزیر بنانے پر مقامی پارٹی قیادت کے تحفظات تھے جنہیں دور کرنے کیلئے بلیغ الرحمن کو وزیر بنایا گیا ہے۔



سکندر حیات بوسن پہلے مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پھر الیکشن سے پہلے مسلم لیگ (ن) میں آگئے اور اب الیکشن جیت کروزیر بن گئے ہیں۔ سکندر بوسن نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کو شکست دی ہے۔ وہ 92میں بھی نواز شریف کی کابینہ میں وزیر رہے ہیں ۔ شجاعت عظیم مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق عظیم کے بھائی ہیں ۔سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے واحد ایم این اے عبدالحکیم بلوچ الیکشن جیتے تھے ان کو وزیر بنادیا گیا ہے ۔بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کے عبدالقادر بلوچ اور آزاد شامل ہونے والے جام کمال خان کو وزارت دی گئی ہے ۔ سندھ سے فنکشنل لیگ کے صدر الدین راشدی اور نیشنل پیپلزپارٹی کے مرتضیٰ جتوئی کو کابینہ میں نمائندگی دی گئی ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف نے اقلیتی سینیٹر کامران مائیکل کو وفاقی کابینہ میں اہم وزارت دیکر تاریخ رقم کی ہے پاکستان میںاقلیتوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اس سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھا پیغام جائیگا۔

کامران مائیکل وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سابق کابینہ میں پہلے اقلیتی وزیر خزانہ بننے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں وہ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سفارت کاری طارق فاطمی 2008ء کے بعد مسلم لیگ (ن) کی میٹنگز میں آنا شروع ہوئے اور اب وہ 70سال کی عمر میں کابینہ میں شامل ہوگئے ہیں وہ ق لیگ کے دور حکومت کے دوران اردن میں سفیر تھے۔مسلم لیگ(ن) امور خارجہ کے سر براہ محمد مہدی سفارتی سطع پر شروع سے پارٹی کیلئے کام کر رہے ہیں اور انہیں باقاعدہ طور پر اس حوالے سے ذمہ داری دی گئی تھی مگر انہیں اکاموڈیٹ نہیں کیا گیا۔