وزیراعظم کے عزائم اور معاشی حقائق

عمران خان نے بیڈ گورننس کے چیتھڑے اڑاتے ہوئے اپنے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کے ممکنہ اقدامات کا اعادہ کیا۔


Editorial October 09, 2018
عمران خان نے بیڈ گورننس کے چیتھڑے اڑاتے ہوئے اپنے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کے ممکنہ اقدامات کا اعادہ کیا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہے۔ انھوں نے ملکی معیشت کو قرضوں کی اعصاب شکن تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرضہ اتارنے کے لیے بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی، چیزیں مہنگی ہوں گی، اتنے قرضوں میں کیسے سبسڈی دے سکتے ہیں، لہٰذا سبسڈی بھی کم کردیں گے۔

وزیراعظم نے مہنگائی روکنے کے آپشن کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی صورت ہے کہ قومی خزانہ لوٹنے والوں سے پیسہ واپس لیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، ہماری کوشش ہے کہ بعض دوست ممالک پاکستانی بینکوں میں پیسے رکھوادیں تاکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ سکیں۔ ملک کے غیر یقینی معاشی منظرنامہ پر انھوں نے گزشتہ روز اپنے دورہ لاہور کے دوران ایوان وزیراعلیٰ میں بحیثیت وزیراعظم اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اظہار خیال کیا۔

ملکی اقتصادی صورتحال اور داخلی سیاسی کشمکش کے تناظر میں وزیراعظم نے بعض تلخ معاشی حقائق کا ذکر کیا، درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بعض اہم منصوبوں پر عملدرآمد کا یقین دلایا، تاہم قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کے جو دل دہلا دینے والے اعداد وشمار بتائے ہیں وہ قوم پہلے بھی سن چکی ہے، پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کا بیشتر انحصار سابقہ دو حکومتوں کی بدانتظامیوں کی ہوشربا داستانوں پر تھا۔

عمران خان نے بیڈ گورننس کے چیتھڑے اڑاتے ہوئے اپنے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کے ممکنہ اقدامات کا اعادہ کیا، دلفریب وعدے اور دعوے کیے جو ہر سیاسی پارٹی الیکشن کے موقع پر کرتی ہے، مگر سیاست کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان وعدوں کے ایفا کرنے کے لیے بھی سیاست دانوں کو معاشی نشیب وفراز اور زمینی حقائق کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اب بھی حکومت کے پاس کافی وقت ہے کہ وہ اپنے اقتصادی اور معاشی ومالیاتی روڈمیپ کو حتمی شکل دے، جن وعدوں اور نعروں پر پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں آئی ہے ان کو پورا کرے، جو بیان جاری ہو اس پر استقامت کا مظاہرہ کرے، کوئی یوٹرن نہیں لینا چاہیے، اس سے حکومت کا اعتبار مجروح ہوسکتا ہے اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی بھی مشکل میں پڑسکتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پرجوش ووٹرز، معاشی آسودگی اور ریلیف سے محروم عوام کی توقعات بھی اسی تناسب سے بڑھتی چلی گئی ہیں، لوگوں میں دو وقت کی روٹی اور بسوں، کوچز کے کرایے دینے کی استعداد نہیں رہی، بیروزگاری اور غربت کا شکنجہ ان کے گرد اور بھی مضبوط ہوگیا ہے اور آج جب عام آدمی نئی حکومت سے ریلیف چاہتا ہے تو اسے مہنگائی کا سونامی شدید دھچکے سے دوچار کردیتا ہے۔

اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مہنگائی کا طوفان بڑھا چلا جارہا ہے، حکومت معاشی روڈمیپ دینے میں کوئی بریک تھرو نہیں کرسکی، جب کہ بجلی، گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کو اس اندیشہ میں مبتلا کردیا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے ان کی زندگی مزید مصائب کا شکار ہوجائے گی۔

ادھر وزیراعظم نے ایک بار پھر قوم کو باور کرایا ہے کہ وہ اسے معاشی حقائق بتانا چاہتے ہیں، وزیراعظم کے بقول اپوزیشن مہنگائی ہونے کا شور تو مچا رہی ہے، لیکن ہمیں 100 دن پورے کرنے تو دیں۔ وزیراعظم کے مطابق گزشتہ چار برس میں دبئی میں پاکستانیوں نے 900 ارب روپے کی جائیداد خریدی ہے۔ حکومت تحقیق کر رہی ہے کہ کیا یہ پیسہ جائز طریقے سے باہر گیا، ہم نے 895 پراپرٹیز کی تفصیلات منگوالی ہیں جب کہ 300 افراد کو نوٹس دیے ہیں۔

بلاشبہ وزیراعظم نیک نیتی سے معاشی صورتحال کا قابل عمل حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں مگر اقتصادی عوامل اور معاشی جدلیات عوام کو درپیش دردانگیز مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ حقیقت وزیر خزانہ اسد عمر اور حکومتی مشیران کرام کی نگاہوں سے اوجھل تو نہیں ہوسکتی کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود آئی ایم ایف سے رجوع ہونے کی مجبوری سامنے آگئی ہے، بیروزگاری، بدامنی، اسٹریٹ کرائمز، زراعت کی زبوں حالی اور سماجی و سیاسی ہم آہنگی اور بہتر اقتصادی پیش رفت کی بے نام سی خوشخبری عوام کو ہر قیمت پر ملنی چاہیے، حکومتی خوش فہمیوں سے ماورا سنگ میل جیسے معاشی اقدامات سے نہ صرف حکومتی ساکھ مستحکم ہوسکتی ہے بلکہ پچھلی حکومتوں کو مطعون کرنے سے ہٹ کر بھی عوام کو بہتر مستقبل دینے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

حکومت برآمدات میں مسلسل کمی سے پیدا ہونے والی صورتحال کی کوئی مناسب اور معقول پالیسی متعارف کرے، اور رہائش اور روزگار کی فراہمی کے جن بڑے پروگراموں کا اعلان کرچکی ہے اس کی تکمیل کے لیے مالی وسائل کے حصول میں جت جائے۔

وزیراعظم نے دوست ملکوں سے پیسہ حاصل کرنے اور ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے جن منصوبوں کا ذکر کیا ہے اب ضرورت ان کو مکمل کرنے کے لیے ٹیم اسپرٹ کے ساتھ کام کرنے کی ہے۔ افلاس و مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام نئی حکومت سے معاشی آسودگی کی امید لگائے ہوئے ہیں، ان کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں