موسمیاتی تغیر سے قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات تشویشناک

عالمی سطح پر خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے۔


Editorial October 09, 2018
عالمی سطح پر خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے۔ فوٹو : فائل

نوع انسانی کی غلطیوں اور لاپرواہیوں سے دنیا کے موسم میں برپا ہونے والی تبدیلیوں نے خطرات کی الارمنگ صورتحال پیدا کردی ہے، موسمیاتی تغیر سے دنیا میں قدرتی آفات کے خطرات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور گزشتہ برسوں دنیا بھر میں آنے والے زلزلے، طوفان اور سونامی حضرت انسان کو دعوت دے رہے ہیں کہ وقت رہتے اپنی غلطیوں کو سدھار لیا جائے۔

کراچی میں سمندری طوفان کی آمد کا خطرہ اور بعد میں وضاحت سامنے آئی، سمندری طوفان ''لوبان'' سے پاکستان کے ساحلوں کو کوئی خطرہ نہیں، جب کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سمندری طوفان یمن، اومان اور مسقط کو براہ راست متاثر کرسکتا ہے۔

کراچی میں طوفان کا خطرہ ٹل گیا لیکن ہوا کے کم دباؤ کے باعث اکتوبر میں بھی شدید گرمی اور لو نے شہریوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کردیا۔ پاکستان میں عموماً اوائل ستمبر سے ہی سرد ہوائیں چلنا شروع ہوجاتی تھیں لیکن اکتوبر میں بھی گرمی کی شدید لہر خطرناک موسمیاتی تبدیلی کا ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کو ٹالنے کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو 1.5 اعشاریہ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے معاشرے اور عالمی معیشت میں تیز ترین، دور رس اور غیر معمولی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ دنیا بھر میں کلائیمیٹ چینج کے خطرے کا شور تو سنائی دیتا ہے لیکن عالمی سطح پر خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے، جب کہ اس امر میں بھی دو رائے نہیں کہ صرف چند ایک ممالک کے احتیاطی تدابیر برتنے اور گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کے اقدامات سے حسب منشا نتائج نہیں مل سکتے، جب تک کہ پوری دنیا کے ممالک مل کر اس مسئلے کے حل کی طرف نہ بڑھیں۔

اسلام آباد میں اتوار کو عالمی ماحولیاتی سفارتکاری کے دن کے حوالے سے یورپی یونین اور ورلڈ وائلڈ فنڈ کے تعاون سے ایک پرگرام کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد ماحولیاتی تغیر سے متعلق اقدامات و تعاون کے لیے آگاہی پیدا کرنا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف عوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی آگاہی مہم چلائی جائے بلکہ عالمی سطح پر بھی پوری دنیا کو اس مسئلے کی جانب راغب کرنے اور راست اقدامات پر مجبور کیا جائے۔

مقبول خبریں