تھر میں بچوں کی اموات سندھ حکومت کی رپورٹ مسترد

تھر کوئی علاقہ غیر نہیں کہ صوبائی حکومت یہاں کے بنیادی مسائل ہی حل نہیں کر سکی۔


Editorial October 11, 2018
تھر کوئی علاقہ غیر نہیں کہ صوبائی حکومت یہاں کے بنیادی مسائل ہی حل نہیں کر سکی۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: عدالت عظمیٰ نے صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں سندھ حکومت کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کی تھر میں غذائی قلت سے 400 بچوں کی اموات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا یہ سوال چشم کشا ہے کہ کوئی غذائی قلت سے مررہا ہے اور کوئی ناقص علاج معالجے سے، تھر والوں کو گھر، پانی اور خوراک دینا کس کی ذمے داری ہے۔ حکومت سندھ کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال تھر میں 486 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، 317 بچوں کی عمریں 11 ماہ سے کم تھیں۔

حکومت سندھ کا موقف ہے کہ بچوں کے درمیان کم وقفہ اور ماؤں کی صحت کا ٹھیک نہ ہونا بھی اموات کی وجوہات میں شامل ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سندھ میں شعبہ صحت کی بہتری کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے، جب کہ ہر سال ہی تھر میں بچوں کی اموات پر میڈیا پر ایک شور برپا ہوتا ہے۔

دیکھا جائے تو سندھ میں دس سال سے ایک ہی حکومت ہے لیکن تھر میں صورتحال کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، جب کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ایک دوسرے پر بلیم گیم بھی جاری ہے، سندھ کی زبوں حالی پر سیاست کا کھیل کھیلا جارہا ہے، عملی طور پر نہ صوبائی حکومت ہی اور نہ وفاقی حکومت ہی نے کچھ کیا ہے۔

دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی نے بھی تھر میں قحط کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی۔ صدر مملکت نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت کو تھر کے عوام کی مدد کرنی چاہیے اور قحط زدہ علاقوں کے حوالے سے مستقل پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔صرف تھر ہی نہیں پورے صوبے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معاملات تسلی بخش دکھائی نہیں دیتے،کراچی جیسے اہم اور معاشی ہب میں صفائی اورپینے کے صاف پانی کے مسائل بدرجہ اتم موجود ہیں۔

جرائم ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں،بے روزگاری کے عفریت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تھر کوئی علاقہ غیر نہیں کہ صوبائی حکومت یہاں کے بنیادی مسائل ہی حل نہیں کر سکی۔پانی کی بوند اور خوراک کے ایک لقمے کے لیے ترستے تھری حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے چلے آ رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے تھر میں بھوک و افلاس نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، قحط زدہ تھر میں غذائی قلت اور پانی کی کمی کے باعث انسان، چرند و پرند ہلاکت کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے برائے نام جاری کیے جانے والے امدادی پیکیج اور ایمبولینسیں بھی کرپشن کی نذر ہوگئیں۔

حکومتی دعوؤں کے باوجود صحرائے تھر میں غذائیت کی کمی اور مختلف امراض کے باعث سال 2017 میں 445، 2016 میں 479، 2015 میں 398 اور2014 میں 326بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔اگر تھر میں صحیح معنوں میں اقدامات کیے جاتے تو وہاں کے لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہو جاتے اور جو بچے بھوک سے مر رہے ہیں اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے محض اعلانات کے بجائے مستقل بنیادوں پر تھر کی صورتحال کا حل نکالا جائے اور اس علاقے میں معیاری غذا، پینے کے میٹھے پانی کی فراہمی اور بنیادی مراکز صحت میں علاج و معالجہ کی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

مقبول خبریں