آئی ایم ایف معاشی مجبوری کا مستقل حل نہیں

آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیرگزارا ہوسکتا ہے لیکن پاکستان اورپاکستانی عوام کی مشکلات اورتکالیف بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔


Editorial October 15, 2018
آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیرگزارا ہوسکتا ہے لیکن پاکستان اورپاکستانی عوام کی مشکلات اورتکالیف بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔ فوٹو: آئی ایم ایف ٹوئٹر

پی ٹی آئی کی طرف سے انتخابات سے قبل اقتصادی امداد کے لیے آئی ایم ایف کی طرف جانے سے سختی کے ساتھ انکار کیا جا رہا تھا مگر حکومت سنبھالتے ہی جب وسیع تر تناظر میں حالات کی تصویر نظر آئی تو نئی حکومت کو بھی جانا پڑا رقیب کے در پر ، یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے لیے ایسے حالات چھوڑے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف حکام کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آئی ایم ایف اور دیگر ذرایع سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کی حمایت کی تھی۔

انھوں نے کہا میں نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی نہیں کی، میں نے وزیر اعظم عمران خان کو بیل آؤٹ پیکیج کے بارے میں بتایا تھا، ہم مشاورت کے بعد آئی ایم ایف کے پاس گئے جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں 600 پوائنٹ اضافہ ہوا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا، تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کا تجارتی توازن متاثر ہوا اور آگے بھی خطرات نظر آرہے ہیں، ہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ 2 ارب ڈالر جا رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر گرتے جا رہے ہیں ایسی صورتحال میں کسی نہ کسی سے بیل آؤٹ ناگزیر تھا، آئی ایم ایف کا وفد 7 نومبر کو پاکستان آئیگا، اگر قرضہ دینے کے لیے قومی سلامتی سمیت کوئی ناقابل قبول شرائط رکھیں تو معاہدہ نہیں کرینگے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے تاہم اس کے عوام کی زندگی پر منفی اثرات پڑینگے، آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر گزارا ہو سکتا ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی عوام کی مشکلات اور تکالیف بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

وزیر خزانہ جتنی مرضی وضاحتیں کرتے رہیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک انصاف حکومت نے پوری شدومد سے قرضوں کا کشکول توڑنے اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا تھا مگر جب حالات نے مجبور کیا اور حقائق نے آنکھیں کھولیں تو حکومت کو آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹانا ہی پڑا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت معاشی مسائل کو کیسے حل کرتی ہے اور کیا آئی ایم ایف کے پاس صرف ایک بار ہی جانا پڑیگا یا آیندہ بھی کوئی نہ کوئی عذر تراش کر آئی ایم ایف سے درخواست گزاری کرنا پڑیگی۔آئی ایم ایف معاشی مجبوری کا عبوری حل ہونا چاہیے، مستقل نہیں۔

مقبول خبریں