سپریم کورٹ اے این ایف سے منشیات کے بڑے اسمگلروں کی فہرست طلب

کمرشل بناکرافادیت ختم کی گئی،ریمارکس،6،6 پلاٹ لینے والوںسے وصولی ہونی چاہیے،جسٹس اعجاز


Numainda Express June 12, 2013
جیلوںکی حالت زار،لیکچررمستقل نہ کرنے،اغوا کا ازخودنوٹس، ہر کوئی اپنا گھر بچاتا ہے لیکن یہاں رکھوالوں نے خود اجاڑ دیا، ریمارکس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے نیشنل پولیس فائونڈیشن ہائوسنگ اسکیم میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ چند اعلیٰ عہدیداروں نے آپس میں پلاٹوں کی بندر بانٹ کرنے کیلیے خیراتی منصوبے کوکمرشل میں تبدیل کرکے فائونڈیشن کی افادیت ختم کر دی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے سینے پرگولی کھانے والے پولیس کے جوانوں اور شہیدوں کے ورثاء کی فلاح کیلیے نیشنل پولیس فائونڈیشن کی صورت میں ادارہ قائم کیا گیا لیکن افسوس پولیس کے جوانوںکی اس امانت کو چند بڑے افسران نے آپس میں تقسیم کیا اور باہرکے لوگوںکو بھی حصہ دار بنایا ، چیف جسٹس نے کہا ہر شخص اپنے گھرکا تحفظ کرتا ہے لیکن یہاں تو رکھوالوں نے خود اپنے گھر کو اجاڑا، شاید یہ لوگ اپنے ادارے کے ساتھ مخلص نہیں تھے۔ جن افسران کو 8،8 پلاٹ دیے گئے ان کیخلاف مقدمات درج ہونے چاہیں عدالت نے نیشنل پولیس فائونڈیشن کا سائٹ میپ طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کردی۔



منشیات اسمگلنگ کے ایک مقدمہ میں عدالت نے اے این ایف کی کارکردگی رپورٹ مستردکرتے ہوئے کہاکہ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلیے جعلی رپورٹ تیارکرکے جمع کرائی گئی ہے۔فاضل بینچ نے اے این ایف سے منشیات کے بڑے سمگلروںکی فہرست اور ادارے کی کارکردگی سے متعلق جامع رپورٹ طلب کر لی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا اے این ایف ایک غیر موثر ادارہ بن چکاہے، جسٹس اعجاز نے کہا اسمگلنگ کی حد تک تو پولیس کی کارکردگی اے این ایف سے بہتر ہے،کارکردگی نہیں تو پھر اس ادارے کو رکھنے کا کیا جواز ہے؟