معاشی بحران اور وزیراعظم کا ویژن

وزیر اعظم نے میڈیا کویقین دلایا کہ موجودہ حکومت کے دورمیں میڈیا کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر آئے گی۔


Editorial October 19, 2018
وزیر اعظم نے میڈیا کویقین دلایا کہ موجودہ حکومت کے دورمیں میڈیا کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر آئے گی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز پی بی اے' سی پی این ای اور اے پی این ایس کے مشترکہ وفد سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، سابقہ حکومتوں نے جس انداز میں سرکاری وسائل اور عوام کے پیسوں کا استعمال کیا اور ملک کو جس دلدل میں دھکیلاہے اس کی مثال نہیں ملتی، اب تک اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث 128اکاؤنٹس پکڑے گئے ہیں، انھوں نے کہا ان کے اگلے دوغیر ملکی دورے اہمیت کے حامل ہیں، دوست ممالک سے بات چیت چل رہی ہے، پرامید ہوں شائد آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی پڑا توسخت شرائط کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

وزیراعظم نے نیوزپرنٹ پرعائد5 فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی۔ وزیر اعظم نے میڈیا کویقین دلایا کہ موجودہ حکومت کے دورمیں میڈیا کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر آئے گی۔انھوں نے کہا یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے میڈیا انڈسٹری کے اشتہارات بند کر دیے ہیں، حکومت کا اشتہارات کی پابندی اور میڈیا پر کنٹرول کاکوئی ارادہ نہیں، البتہ کن شعبوں میں ایڈورٹائزکرنا ہے۔

اس کا تعین کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی صورت میں میڈیا انڈسٹری کو نیچے نہیں جانے دیںگے۔ انھوں نے کہاکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بقایا جات کی ادائیگیوںکے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جا رہا ہے۔ موجودہ دورِ حکومت میں جتنی شفافیت اشتہارات کے معاملات میں آئی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔

انھوں نے کہا کہ اشتہارات کی تقسیم کے عمل کومزید شفاف بنانے کے لیے میڈیا کے نمایندوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دیں اوروزارتِ اطلاعات سے مل کر مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں معاونت کریں۔ صدر سی پی این ای نے کہا میڈیاکے حوالے سے موجودہ حکومت کی پالیسی عدم مداخلت اور فیئر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا تسلیم کرتا ہوں صحیح معنوں میں اپنا پروگرام عوام تک نہیں پہنچا سکے، لیکن تگڑا دعویٰ کر رہا ہوں اگلے چھ ماہ میں ملک تیزی سے بدلے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے پی بی اے' سی پی این ای اور اے پی این ایس کے نمایندہ وفد سے جو باتیں کی ہیں' وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ بلاشبہ ملک کی اکانومی انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ موجودہ حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی لانے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ وقت کا تقاضا ہے' معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت شروع کی جا چکی ہے البتہ وزیراعظم نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ شاید آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

وزیراعظم اگلے ماہ کے شروع میں عوامی جمہوریہ چین کے دورے پر جا رہے ہیں' ہو سکتا ہے کہ انھیں وہاں سے مالی تعاون کی امید ہو' سعودی عرب اور یو اے ای بھی پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون کر سکتے ہیں۔ یہ امید افزا اشارے ہیں تاہم حکومت کو ایسے فیصلوں اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں کمزور پڑیں' میڈیا کو درپیش مسائل پر وزیراعظم کا رویہ ہمدردانہ ہے۔

امید واثق ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کو بھی برقرار رکھیں گے اور اس کو درپیش مالی مسائل کو بھی فراخ دلی سے حل کریں گے۔ وزیراعظم اور ان کی حکومت کو یہ ادراک کرنا ہو گا کہ جب بھی کوئی بڑا یا اہم منصوبہ شروع کیا جاتا ہے وہ تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ عوام کے ذہنوں میں نقش نہ ہو جائے۔ حکومت نے حال ہی میں دو انتہائی اہم منصوبوں کا اعلان کیا لیکن عام آدمی تک ان منصوبوں کو اس طرح سے نہیں پہنچایا جا سکا جس طرح کہ پہنچانا جانا چاہیے تھا۔

50لاکھ گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ حکومت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا اعلان تو کر دیا گیا مگر لوگ ابھی تک اس منصوبے کی تفصیلات جاننے کے لیے پریشان ہیں۔ اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی ان کی مناسب تشہیر کا بندوبست کیا جاتا تو یقیناً لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بجائے تفصیلات سے آگاہ ہوتے۔ کلین اینڈ گرین پاکستان بھی انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ پاکستان کی کسی حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کبھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ موجودہ حکومت نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے تو اس کی تحسین کی جانی چاہیے۔ مگر کیا کریں اس منصوبے کا بھی محض اعلان ہی ہوا۔

حکومت نے اس پر کام بھی کیا ہو گا لیکن اس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اس منصوبے کی مناسب تشہیر کا انتظام کیا جاتا تو عام آدمی تک یہ پیغام آسانی سے پہنچایا جا سکتا تھا۔ پوری دنیا میں حکومتیں جب اس طرح کے منصوبے شروع کرتی ہیں تو ان کی تشہیر کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس امر سے آگاہ ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جلد اس طرف قدم بڑھائیں گے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ معاشی محاذ پر بے شمار دشواریاں ہیں اور معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے جلد اقدامات کیے جانے ناگزیر ہیں، تب ہی عام آدمی کو ریلیف دیا جا سکے گا۔ معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے چین اور سعودی عرب کا کردار اہم ہو گا۔ وزیراعظم چین جانے سے پہلے سعودی عرب کا ایک اور دورہ کریں گے۔

مقبول خبریں