مغوی ایرانی محافظ بازیابی کے لیے پاک ایران مشترکہ تعاون پر اتفاق

اغلب گمان ہے کہ کوئی وطن دشمن نادیدہ قوت ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرکے پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی الجھانا چاہتی ہے۔


Editorial October 19, 2018
اغلب گمان ہے کہ کوئی وطن دشمن نادیدہ قوت ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرکے پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی الجھانا چاہتی ہے۔ فوٹو: فائل

پاک ایران سرحد پر 16اکتوبر کو میر جاوا کے قریب مبینہ طور پر اغوا ہونے والے ایرانی محافظوں کی بازیابی کے لیے پاک ایران سرحدی اضلاع کے حکام نے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی کو فون کیا اور گارڈز کی بازیابی کے لیے کوششوں اور باہمی تعاون کا جائزہ لیا ۔

شاہ محمود قریشی نے ایرانی وزیر خارجہ کو بتایا کہ ایرانی گارڈز کے اغوا کے معاملے پر حکومت پاکستان کو گہری تشویش ہے' جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں سیکیورٹی دستوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان اور ایران کے ان مشترکہ دشمنوں کی حرکت ہے جو دونوں ملکوں کے موجودہ قریبی تعلقات اور تعاون سے ناخوش ہیں اور سرحد پر مکمل طور پر امن قائم رکھا جائے گا۔

دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کا بھی ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا اس کے علاوہ پاک ایران بارڈر پر دونوں ممالک کے افسروں کا مشترکہ اجلاس ہوا' اسسٹنٹ کمشنر تفتان کے مطابق دونوں ممالک کے حکام نے پاک ایران سرحد کا معائنہ کیا' پاکستان سے ایران میں کسی شخص کے داخل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہو سکی کہ ایرانی گارڈز کو کس نے اغوا کیا اور ان کے مطالبات کیا ہیں' لیکن خطے کی پیچیدہ صورت حال کے تناظر میں یہ کہنا خارج از امکان نہیں کہ اس واقعہ کے پس منظر میں پاک ایران سرحد پر کشیدگی پیدا کرنا اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے محرکات کارفرما ہیں۔ پاکستان کو اس وقت بھارت کے ساتھ مشرقی اور افغانستان کے ساتھ شمال مغربی سرحد پر تناؤ کا سامنا ہے۔

اغلب گمان ہے کہ کوئی وطن دشمن نادیدہ قوت ایران کے ساتھ تعلقات خراب کر کے پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی الجھانا چاہتی ہے۔ پاک ایران سرحد پر دہشت گردوں کی جانب سے پیدا کردہ افسوسناک واقعات پہلے بھی رونما ہوتے رہے جنھیں دونوں ممالک کے حکام بڑی زیرکی اور معاملہ فہمی سے نمٹاتے رہے ہیں۔ اب جس گروہ نے بھی پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی مکروہ سازش کی ہے وہ کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

دونوں ممالک کے حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مغویان کی تلاش کے لیے متحرک ہیں' امید ہے کہ جلد ہی ایرانی اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا جائے گا اور اس واقعہ کے پس پردہ مذموم عزائم بھی منظرعام پر آ جائیں گے۔

مقبول خبریں