زینب قتل کیس مجرم انجام کو پہنچ گیا

سزائے موت کے بعد مجرم کی لاش آدھے گھنٹہ پھانسی گھاٹ پر جھولتی رہی۔


Editorial October 19, 2018
سزائے موت کے بعد مجرم کی لاش آدھے گھنٹہ پھانسی گھاٹ پر جھولتی رہی۔ فوٹو:فائل

قصور کی معصوم زینب سمیت 8 بچیوں کا قاتل عمران انجام کو پہنچ گیا۔ مجرم کو بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے کوٹ لکھپت جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

سزائے موت کے بعد مجرم کی لاش آدھے گھنٹہ پھانسی گھاٹ پر جھولتی رہی، طبی عملہ کی جانب سے موت کی تصدیق کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔ سزا پر عملدرآمد کے بعد زینب کے والد کا کہنا تھا کہ پھانسی زینب کی ایک چیخ کے برابر بھی نہیں، پھر بھی آج انصاف کے تقاضے پورے ہوگئے، سزا پر مطمئن ہوں۔

قصور کی زینب کا کیس انصاف کی تیز ترین فراہمی کا بھی حوالہ بن گیا ہے، بلاشبہ زینب کے قتل کا واقعہ سامنے آنے کے بعد جس سرعت اور سائنٹیفک انداز میں تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا گیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دینے پر آئیں تو کوئی بھی مجرم قانون کی زد سے بچ نہیں سکتا۔

بلاشبہ زینب کے قاتل کی سزائے موت انصاف کی فتح ہے لیکن زینب کا قتل اور اسی قبیل کے دیگر جرائم ہمارے معاشرے کی پستی کو ظاہر کرتے ہیں ، قصور میں ہونے والے اس سنگدلانہ واقعے نے سفاکی اور بے دردی کے کئی باب وا کیے۔ پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی شرح حد درجہ بڑھ چکی ہے، زینب کے قاتل کو تو پھانسی دے دی گئی لیکن ابھی بھی یہ سوال باقی ہے کہ اس طرح کے واقعات کا ذمے دار کون ہے اور قصور کس کا ہے؟

ہم اپنے معاشرے میں ایسے بیمار ذہن کے حامل افراد کو پہلے کیوں نہیں تلاش کرسکتے، آخر ہم سانحات کا انتظار کیوں کرتے ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ ہم بطور قوم سانحات کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا باعث بننے والے محرکات کا خاتمہ کریں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچواں بچہ زیادتی کا شکار ہوتا ہے اور ایسا کرنے والے 90 فیصد لوگ پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ گزشتہ صرف ایک سال میں 4139 کیسز جنسی بداخلاقی کے درج ہوئے جن میں 2410 بچیاں اور بقیہ لڑکے تھے۔ سروے کے مطابق ان حالات کے ذمے داران میں موبائل،بے لگام میڈیا، سوشل ویب سائٹس، فیشن، فحاشی اور خاص طور پر تربیت کا فقدان شامل ہے، ہمیں ان تمام عناصر پر دھیان دینا ہوگا۔ تاکہ ملک میں اخلاقی اقدار کی واپسی کے ساتھ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا بھی سدباب کیا جاسکے۔

مقبول خبریں