افغانستان کی دردناک صورتحال

افغانستان کی مخدوش سیاسی ، سماجی اور عسکری صورتحال نے ہولناک کروٹ لی ہے۔


Editorial October 20, 2018
افغانستان کی مخدوش سیاسی ، سماجی اور عسکری صورتحال نے ہولناک کروٹ لی ہے۔ فوٹو : فائل

افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فائرنگ کے نتیجے میں صوبائی گورنر زلمی ویسا، صوبائی پولیس چیف عبدالرزاق اور خفیہ ایجنسی کے مقامی چیف عبدالمومن حسین خیل جاں بحق اور 2امریکی زخمی ہو گئے جب کہ افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر محفوظ رہے، افغان سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی مارا گیا۔

افغانستان کی مخدوش سیاسی ، سماجی اور عسکری صورتحال نے ہولناک کروٹ لی ہے، امریکا کو اپنی جنگی تاریخ کی طویل ترین عسکری کارروائی میں پیش رفت کے بجائے ہزیمت، بوکھلاہٹ اور طالبان کی برپا کردہ شورش نے فیصلہ کے بحران میں بھی مبتلا کردیا ہے۔

جمعرات کو طالبان کے حملہ کی منصوبہ بندی افغان حکومت اور امریکی کمان کے لیے سوالیہ نشان ہے جو افغان عسکری نیٹ ورک،انٹیلی جنس شیئرنگ کی ناکامی اور داخلی انتشار اور دراڑ کی نشاندہی ہوتی ہے، مگر مسئلہ کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی الٹا خطے میں بدامنی بڑھ رہی ہے، جنگجوئی اور طالبان کے افغان اور نیٹو فورسز پر تابڑ توڑ حملوں اور مسلسل یلغار کے نتیجہ میں افغان عوام کے لیے صورتحال سخت اندوہ ناک اور قابل رحم ہوگئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی رعونت ، صدر ٹرمپ کی جنگی جنوبی ایشیائی پالیسی ، بلاجواز ہٹ دھرمی، غیر حقیقت پسندانہ خارجہ و عسکری حکمت عملی کے باعث افغانستان دوسرا ویت نام بنتا جارہا ہے، صدر ٹرمپ کو افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے مغالطوں سے سبق سیکھنا چاہیے، امریکی کمانڈروں کو امریکی جنگی طاقت کے غرور بے جا سے ہٹ کر سوچنا چاہیے کہ 17 سال سے جاری اس تباہ کن جنگ کا کوئی نتیجہ امریکا یا خطے میں دائمی امن واستحکام کی شکل میں نہیں نکل سکا ہے ،افغان عوام کے انسانی مصائب بڑھ گئے، بربادی کا دردانگیز منظرنامہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

طالبان سے مذاکرات کے لیے نیک نیتی امریکی اور عالمی قوتوں کی صفوں سے ظاہر نہیں ہورہی، ہاں البتہ پاکستان پر اس کے تزویراتی اور مصالحتی سیاسی کردار پر حرف گیری ختم نہیں ہوتی،خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے فہمیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور عالمی قوتیں طالبان فیکٹر اور تاریخی عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکا پر دباؤ ڈالیں اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ کسی پالیسی کو تمام اسٹیک ہولڈرز ساتھ لے کر چلیں جب کہ امریکا اپنی گن بوٹ ڈپلومیسی اور جنگی پالیسیوں کے جنون سے ہاتھ روک لے تو افغانستان کا غیر فوجی حل نکالا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے افغانستان میں امن و استحکام ضروری ہے، مشکل کی گھڑی میں افغان حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گورنر کمپاؤنڈ میں ہونے والے اجلاس میں ہوا جس میں افغانستان میں تعینات ریزولٹ سپورٹ کمانڈر امریکی جنرل آسٹن اسکاٹ ملر بھی شریک تھے، افغان میڈیا کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب افغان اور امریکی حکام گورنر ہاؤس سے ہیلی پیڈ کی جانب جا رہے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حملہ صوبائی گورنر کے ایک باڈی گارڈ نے کیا تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی گئی ۔ نیٹو ترجمان نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں امریکی جنرل اسکاٹ ملر محفوظ رہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ قندھار جیسے حملے ہمارے عزائم کو مزید مضبوط کرتے ہیں، ایک بیان میں پینٹاگون کا مزید کہنا تھا قندھار حملہ جنوبی ایشیاء سے متعلق امریکی حکمت عملی تبدیل نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب طالبان نے قندھار کے گورنر کمپاؤنڈ میں حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، پاکستان چاہتا ہے افغانستان کے امن کے لیے17 سال سے جاری جدوجہد کامیاب ہو، پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ۔ لیکن امریکی دفتر خارجہ کے قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے پاکستان ہنری انشر کا بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے پاس دو طرفہ تعلقات کو بہتر کرنے کے مواقع موجود ہیں تاہم اس کے لیے اسلام آباد کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پرانی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

واشنگٹن کے وڈرو ولسن سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے ہنری انشر کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگ نئی پالیسی خود پاکستان کے لیے مفید تو ثابت ہوگی تاہم ہنری انشر کے مطابق افغان پالسی بدلنے تک پاکستان پر دباؤ قائم رکھا جائے گا۔ ہنری انشر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ معاشی اور سیاسی طور پر پاکستان خطے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے مگر اس کی پالیسیوں سے خطے میں عدم استحکام ہو رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ صدر ڈونلد ٹرمپ نے جنوبی ایشیائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تاہم امریکا کے نزدیک اگر افغانستان کے مسئلہ کا حل پاکستان کے پاس ہے اور اس کا ایک صائب کردار بھی ہے تو اسی پاکستان سے شکوے شکایات کا سلسلہ کب بند ہوگا۔ پاکستان افغان امن عمل کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ، ضرورت امریکی مائنڈ سیٹ کے بدلنے کی ہے۔

مقبول خبریں